.

نیجیریا:کرسمس کے موقع پربوکوحرام کے حملے میں سات افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیجیریا کی شمال مشرقی ریاست بورنو میں واقع مسیحیوں کے ایک گاؤں پر کرسمس کے موقع پر سخت گیر گروپ بوکو حرام کے جنگجوؤں کے حملے میں سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بوکو حرام نے بورنو میں واقع شہر شیبوک کے نزدیک ایک گاؤں کوارن گولم پرحملہ کیا ہے۔اس وقت مسیحی برادری کے لوگ کرسمس کی تیاریوں میں مصروف تھے۔

بوکو حرام کے جنگجو منگل کی شب دسیوں ٹرکوں اور موٹرسائیکلوں پر سوار ہوکر آئے تھے۔انھوں نے گاؤں کے مکینوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی، ان کے مکانوں کو نذر آتش کردیا اور ان کے لیے آنے والی خوراک کو لوٹ لیا۔

ڈیوڈ بطروس نامی ایک مقامی رضاکار کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے سات افراد کو ہلاک کردیا ہے اور ایک نوعمر لڑکی کو اغوا کرکے ساتھ لے گئے ہیں۔انھوں نے ایک گرجا گھر کو بھی آگ لگا دی ہے۔

شیبوک کے ایک کمیونٹی لیڈر ایوبا الماسن نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور مزید بتایا ہے کہ بوکو حرام کے سمبیسہ جنگل سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے یہ حملہ کیا ہے۔

بوکوحرام کے جنگجوؤں نے اس سال اپریل میں بھی شیبوک سے دس کلومیٹر دور واقع اس گاؤں کوارن گولم پر حملہ کیا تھا۔وہاں سے خوراک کو چوری کر لیا تھا اور مکانوں کو آگ لگا دی تھی لیکن تب گاؤں کے مکین جنگجوؤں کے اس طرف آنے کی خبر ملنے کے بعد بروقت جانیں بچا کر بھاگ جانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

بوکو حرام اور اس کے اتحادی داعش سے وابستہ جنگجو گروپ دولت اسلامیہ صوبہ مغربی افریقا نے حال ہی میں ایک مرتبہ پھر نیجیریا میں فوجی اور شہری اہداف پرحملے تیز کردیے ہیں۔

یادرہے کہ بوکو حرام کے جنگجوؤں نے شیبوک ہی میں 2014ء میں ایک اسکول کی 276 طالبات کو اغوا کر لیا تھا۔اس واقعے کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی اور دنیا کو پہلی مرتبہ بوکو حرام کی سفاکیت اور جنگی کارروائیوں کی سنگینی کا پتا چلا تھا۔

یرغمال بنائی گئی طالبات میں سے 57 چند روز کے بعد بوکو حرام کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔107 کو بازیاب کرالیا گیا تھا یا وہ مذاکرات کے ذریعے رہا کرالی گئی تھیں جبکہ 112 ابھی تک بوکو حرام کی حراست میں ہیں۔اسکول طالبات کے اغوا کے اس واقعے کے بعد سے نیجیریا کی فوج کو شیبوک میں تعینات کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود بوکو حرام نے چھاپا مار حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق نیجیریا کے شمال مشرق میں گذشتہ ایک عشرے سے جاری مسلح تنازع کے نتیجے میں 36 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ قریباً 20 لاکھ بے گھر ہوگئے ہیں۔بوکو حرام اور دوسرے مسلح گروپوں کی تشدد آمیز کارروائیاں پڑوسی ممالک نیجر، چڈ اور کیمرون تک پھیل چکی ہیں۔ان جنگجو گروپوں کے خلاف نبردآزما ہونے کے لیے ان ملکوں نے ایک علاقائی فوجی اتحاد بھی تشکیل دے رکھا ہے۔