.

کارلوس غصن استنبول سے لبنان کیسے پہنچے؟ ترکی میں تحقیقات،7 ذمے دار اہلکار گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں پولیس نے جاپان کی کمپنی نِسان موٹر کے سابق چیئرمین کارلوس غصن کو استنبول سے لبنان پہنچانے میں مدد دینے کے الزام میں چار پائلٹوں سمیت سات افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور ان سے تحقیقات کی جارہی ہے۔

کارلوس غصن گذشتہ سوموار کو آلاتِ موسیقی کے ایک صندوق میں چُھپ کر جاپان سے فرار ہو کر لبنان پہنچ گئے تھے لیکن وہ سیدھے وہاں نہیں گئے تھے۔وہ پہلے استنبول پہنچے تھے اور وہاں سے انھوں نے ایک پرائیویٹ طیارے پر بیروت کا سفر کیا تھا۔

ترک اخبار حرّیت کی ویب گاہ نے جمعرات کو وزارتِ داخلہ کے ایک افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترک بارڈر پولیس کو کارلوس غصن کی آمد کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا تھااور ان کے ملک میں داخلے اور خروج کا اندراج بھی نہیں کیا گیا تھا۔

اخبار نے بتایا ہے کہ کارلوس غصن کا طیارہ سوموار کی صبح مقامی وقت کے مطابق ساڑھے پانچ بجے (0230 جی ایم ٹی) استنبول کے اتاترک ہوائی اڈے پر اترا تھا۔ترک پراسیکیوٹرز نے اس معاملے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا ہے اور متعلقہ تمام ذمے داراہل کاروں کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

دریں اثناء جاپان کے سرکاری نشریاتی ادارے ’این ایچ کے‘ نے یہ انکشاف کیا ہے کہ حکام نے کارلوس غصن کو اپنے فرانسیسی پاسپورٹ پر سفر کی اجازت دے دی تھی۔وہ اپنے خلاف دائر بدعنوانی کے مقدمے میں ضمانت پر رہا ہوئے تھے مگر ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے تھے۔

لبنانی حکام کا کہنا تھا کہ کارلوس غصن لبنان میں اپنے فرانسیسی پاسپورٹ پر قانونی طور پر داخل ہوئے تھے اور حکام کے پاس انھیں ملک میں داخل ہونے سے روکنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔جاپان کا لبنان کے ساتھ ملزموں یا مطلوب افراد کی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔اس لیے وہ لبنان کو مسٹر غصن کو حوالے کرنے کا نہیں کہہ سکتا۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کے مطابق دنیا کے بڑے کاروباری منتظمین میں شمار کیے جانے والے کارلوس غصن کے پاس فرانس ،لبنان اور برازیل کی شہریت ہے۔انھیں ایک نجی سکیورٹی کمپنی ٹوکیو سے اسمگل کرکے استنبول لائی تھی۔ان کے جاپان سے فرار کا منصوبہ گذشتہ تین ماہ کے دوران میں بنایا گیا تھا۔

قبل ازیں لبنان کے ٹیلی ویژن اسٹیشن ایم ٹی وی نے منگل کے روزیہ اطلاع دی تھی کہ گلوکاروں اور موسیقی کاروں کا ایک دستہ جاپان میں کارلوس غصن کے مکان میں یہ کہہ کر داخل ہوا تھا کہ وہ ایک عشائیے کے دوران میں لوگوں کی تفریح طبع کے لیے اپنے فن کا جادو جگائے گا۔اس تقریب کے بعد غصن موسیقی کے آلات کو رکھنے والے ایک صندوق میں چھپ گئے اور پھر ایک مقامی ہوائی اڈے سے جاپان سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔یہ طائفہ دراصل اس سکیورٹی کمپنی کے اہلکاروں پر مشتمل تھا۔

واضح رہے کہ نِسان موٹرکمپنی کے سابق چیئرمین کے خلاف جاپان میں بدعنوانی کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ان پر اپنی مستقبل کی مراعات کو مخفی رکھنے اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے پر فرد الزام عاید کی گئی تھی لیکن وہ خود کو بے قصور قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جاپانی حکام نے نِسان موٹر کمپنی اور رینالٹ ایس اے کے ممکنہ مکمل ادغام کو روکنے کے لیے ان کے خلاف الزامات عاید کیے ہیں۔انھوں نے ڈیڑھ ارب یِن ( ایک کروڑ چالیس لاکھ ڈالر) کے بدلے میں اپنی رہائی کے لیے ضمانت کروائی تھی لیکن ان کی یہ ضمانت منسوخ کی جاچکی ہے۔