.

ایران جوہری سمجھوتے سے دستبردار ،اب افزودہ یورینیم کی کوئی حد نہیں ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبرداری اور اس کی شرائط کی پاسداری جاری نہ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔اس نے کہا ہے کہ وہ یورینیم کو کسی قدغن کے بغیر افزودہ کرے گا۔البتہ اس نے واضح کیا ہے کہ وہ ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے ( آئی اے ای اے) کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

ایران نے میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے ردعمل میں یہ فیصلہ کیا ہے۔اس سرکاری ٹیلی ویژن نے اتوار کی شب صدر حسن روحانی کی حکومت کے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جوہری سمجھوتے کے تحت طے شدہ کسی تحدید کا احترام نہیں کیا جائے گا۔خواہ یہ یورینیم کو افزودہ کرنے کے لیے سینٹری فیوجز کی تعداد کا معاملہ ہو یا افزودہ یورینیم کی سطح یا ایران کی جوہری تحقیق وترقی سے متعلق سرگرمیاں ہوں، ان پرقدغنوں کے لیے شرائط کی پاسداری نہیں کی جائے گی۔‘‘

سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کیے گئے سرکاری بیان کے مطابق’’ایران جوہری افزودگی کا کام اپنی فنی ضروریات کے مطابق جاری رکھے گا،اس کی کوئی حد نہیں ہوگی۔‘‘

واضح رہے کہ ایران نے قبل ازیں اسی ہفتے جوہری سمجھوتے کی بعض شرائط سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا لیکن اب گذشتہ جمعہ کو بغداد میں امریکا کے ایک ڈرون حملے میں میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد دونوں ملکوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے اور ایران نے جوہری سمجھوتے کو خیرباد کہنے کا اعلان کردیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آٹھ مئی 2018ء کو ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور اسی سال نومبر میں ایران کے خلاف دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔

انھوں نے ایران پر دہشت گردوں اور اپنے آلہ کار غیرملکی گروپوں کی حمایت کا الزام عاید کیا تھا۔ان پابندیوں میں ایران کی تیل کی برآمدات ، جہاز رانی اور بنک کاری کے شعبوں کو ہدف بنایا گیا تھا۔ان کے نتیجے میں ایران کی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے اور ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

اس سمجھوتے کے فریق تین یورپی ممالک برطانیہ ، جرمنی اور فرانس اس ڈیل کو بچانے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ البتہ بعض یورپی ممالک ایران کو خبردار کرچکے ہیں کہ اگر اس نے جوہری سمجھوتے کی شرائط سے انحراف کا سلسلہ جاری رکھا تو اسی سمجھوتے میں شامل ایک میکانزم کو بروئے کار لایا جائے گا جس کے تحت ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل دوبارہ پابندیاں عاید کرسکتی ہے۔

آئی اے ای اے نے جولائی 2019ء میں اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایران جوہری سمجھوتے کی شرائط کی خلاف ورزی میں بہت آگے چلا گیا ہے اور اس نے 3.67 فی صد کی مقررہ حد سے زیادہ سطح کی افزودہ یورینیم تیار کر لی ہے۔