.

ایران کا یورپی ممالک کو جوہری تنازع پرمیکانزم فعال کرنے پر سنگین نتائج کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی وزارتِ خارجہ نے یورپی ممالک کو جوہری سمجھوتے پر تنازع کے میکانزم کو فعال کرنے پر’’سنگین اور سخت ردعمل‘‘ سے خبردار کیا ہے۔

برطانیہ ، جرمنی اور فرانس نے ایران کی جانب سے جوہری سمجھوتے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے جواب میں تنازع کے حل کا میکانزم فعال کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن ان تینوں ممالک نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکا کی زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم میں شامل نہیں ہورہے ہیں۔

ایران نے ان تینوں ممالک کو ان کے اس فیصلے پر سنگین مضمرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس پر مزید پابندیاں عاید کرنے کے لیے کسی پیش رفت سے باز رہیں۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق وزارتِ خارجہ نے منگل کے روز یورپی ممالک کے اس اعلان کے ردعمل میں کہا کہ ’’ اگر یورپی اس عمل سے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو پھر انھیں اس کے مضمرات کو قبول کرنے کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا۔‘‘

تاہم وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی کا کہنا ہے کہ ’’ایران ایسی کسی بھی خیر سگالی اور تعمیری کوشش کا مکمل جواب دینے کو تیار ہے جس سے جوہری سمجھوتے کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہو۔‘‘

مذکورہ تینوں یورپی ممالک نے قبل ازیں ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ ’’ ایران کے اقدامات کے پیش نظر ہمارے پاس کوئی چارہ کار نہیں رہ گیا تھا۔آج ہم اپنی تشویش کا اظہار کررہے ہیں کہ ایران جوہری سمجھوتے کے تحت اپنی ذمے داریوں کو پورا نہیں کررہا ہے۔اس لیے اس کا معاملہ 2015ء طے شدہ جوہری سمجھوتے ( مشترکہ جامع لائحہ عمل ،جے سی پی او اے) کے پیراگراف 36 کے تحت تنازع کے حل کے میکانزم کے مطابق مشترکہ کمیشن کو بھیجا جارہا ہے۔‘‘