.

ہالی وڈ کے سابق فلم ساز ہاروی وائن اسٹائن کو زیادتی کے الزامات میں 23 سال قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ایک فوج داری عدالت نے ہالی وڈ کے سابق فلم پروڈیوسر ہاروی وائن سٹائن کو خواتین کی جنسی زیادتی کے متعدد کیسز میں 23 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

خیال رہے کہ 67 سالہ وائن اسٹائن کو جنسی زیادتی کے 5 الزامات میں نیویارک کی ایک عدالت نے گزشتہ ماہ جنسی جرائم کا مرتکب قرار دیا تھا۔

ہاروی وائنسٹائن کا شمار ہالی وڈ کے چوٹی کے فلم سازوں میں ہوتا ہے۔ جنسی جرائم کے الزامات کے بعد ہاروی وائن اسٹائن کی شہرت اور ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔

سڑسٹھ سالہ ہاروی وائن سٹائن بدھ کے روز جب ان کو سزا سنائی جانے والی تھی تو وہ ایک وہیل چیئر پر بیٹھ کر عدالت میں پیش ہوئے۔

ان کے وکلاء نے عدالت سے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر انھیں کم سے کم سزا سنائے جانے کی درخواست کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ پانچ سال قید کی سزا بھی ان کے موکل کے لیے موت کی سزا کے مترادف ہو گی۔

لیکن استغاثہ کے وکلا کا کہنا تھا کہ ہاروی وائن سٹائن جن کے جنسی جرائم کا سلسلہ ان کی پوری زندگی پر پھیلا ہوا ہے اور جس میں انھوں نے بہت سی عورتوں کو اپنی ہوس کی تسکین کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی یا استعمال کیا اور کبھی اپنے رویے پر کوئی شرمندگی بھی محسوس نہیں کی انھیں سخت سے سخت سزا سنائی جانی چاہیے۔

سات مردوں اور پانچ خواتین پرمشتمل عدالتی بنچ نے ہاروی آئن سٹائن کو سنہ 2006ء میں میریم ھیلے اور سنہ 2013ء میں جسیکا مان جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کا قصور وار قرار دیا۔

اس موقعے پر ملزم نے ھاروی آئن سٹائن نے اپنا دفاع کیا ہے اور کہا جن الزامات جنسی تشدد کا رنگ دیا گیا ہے وہ بے بنیاد ہیں۔ ان خواتین کے ساتھ میرا تعلق باہمی رضامندی کے تحت رہا۔