.

کرونا وائرس:سعودی عرب کی فیکٹریوں میں ایک ہفتے میں 37 لاکھ ماسکوں کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی فیکٹریوں میں اس وقت ایک ہفتے میں چہرے کے 37 لاکھ ماسک تیار کیے جارہے ہیں تا کہ شہریوں اور مکینوں کو کرونا وائرس سے بچاؤ میں مدد دی جا سکے۔

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی مہلک وَبا پھیلنے کے بعد سے سینی ٹائزروں ، چہرے کے ماسک اور وینٹی لیٹروں کی قلّت پیدا ہوچکی ہے۔ کرونا کے خلاف جنگ میں یہ تینوں چیزیں ناگزیر ہیں۔اس قلّت کو پورا کرنے اور ان کی عام دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے سعودی عرب نے خود ہی یہ اشیاء تیار کرنا شروع کردی ہیں۔

سعودی عرب کے محکمہ ادویہ اور خوراک (ڈرگ اینڈ فوڈ اتھارٹی) کے ترجمان نے بتایا ہے کہ اس وقت ملک کی 49 فیکٹریوں میں 15 لاکھ لیٹر سے زیادہ سینی ٹائزر تیار کیا جارہا ہے اور اتھارٹی دواسازی کی مقامی صنعت کی مکمل معاونت کررہی ہے۔

سعودی حکومت نے کرونا وائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد تمام طبی آلات اور سامان برآمد کرنے پر پابندی عاید کردی تھی تاکہ مملکت بھر کے اسپتالوں میں اس مہلک وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے یہ ضروری اشیاء دستیاب رہیں۔

اسی ماہ کے اوائل میں بعض میڈیا ذرائع نے یہ اطلاع دی تھی کہ سعودی عرب میں مقامی سطح پر ہر ہفتے ایک ہزار وینٹی لیٹرز بنانے کے لیے بھی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

سعودی ایوان ہائے صنعت وتجارت کی کونسل کے تحت قومی صنعتی کمیٹی کے سربراہ عبدالرحمان العبید نے روزنامہ الریاض سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’سعودی حکومت نے شہریوں کے تحفظ کے لیے بہت کچھ کیا ہے اور ان کا تحفظ اس کی ترجیح ہے۔اب یہ نجی شعبے کی ذمے داری ہے کہ وہ شہریوں اور ملک کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو بروئے کار لائے۔‘‘