کُتے کی ویڈیو کے بعد جاپانی خاتون اول عوامی تنقید کی زد میں
جاپان میں وزیراعظم شنزو آبے کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے بر وقت اقدامات کرنے میں ناکام رہنے کی وجہ سے سخت عوامی تنقید کی زد میں ہیں۔ حال ہی میں ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں انہیں کتے کے ساتھ دل بہلاتے دیکھا گیا جس پر عوامی حلقوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر سخت ردعمل سامنے آیا۔ جاپانی وزیراعظم شنزو آبے کے بعد اب ان کی اہلیہ اکی آبے بھی عوامی تنقید کی زد میں ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شنزو آبے کرونا بیماری کی روک تھام کے لیے بروقت کوئی قدم نہیں اٹھا سکے جس کے نتیجے میں یہ بیماری جاپان میں بڑے پیمانے پر پھیلی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے رد عمل بہت تاخیر سے سامنے آیا، اس وقت تک بیماری کافی پھیل چکی تھی۔
جاپانی وزیراعظم شنزو آبے نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ 'ٹویٹر' پر ایک پوسٹ میں شہریوں سے گھروں میں تنہائی اختیار کرنے کی تاکید کی تو اس پر 'ہیش ٹیگ آپ کا اپنے بارے میں کیا خیال ہے' ٹاپ ٹرینڈ کرنے لگا۔
友達と会えない。飲み会もできない。
— 安倍晋三 (@AbeShinzo) April 12, 2020
ただ、皆さんのこうした行動によって、多くの命が確実に救われています。そして、今この瞬間も、過酷を極める現場で奮闘して下さっている、医療従事者の皆さんの負担の軽減につながります。お一人お一人のご協力に、心より感謝申し上げます。 pic.twitter.com/VEq1P7EvnL
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہےکہ جاپانی وزیراعظم صوفے پر براجمان اپنے کتے کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ اس کے بعد چاہے پیتے ہیں اور ایک کتاب کا بھی مطالعہ کرتےہیں۔ اس کے بعد ان کی بیوی وہاں پہنچ آتی ہیں۔
اس سارے منظر پر عوام سخت ناراض ہیں۔ لوگوں کاکہنا ہےکہ وزیراعظم شنزو آبے کا طرز عمل لاپرواہی اور غفلت پرمبنی ہے۔
جاپانی خاتون اول اکی آبے پرعوام کے غصے کی ایک وجہ ان کا تنہائی کے اپنے اصول کو توڑنے کا ایک واقعہ بھی ہے جس میں وہ 50 افراد کے ہمراہ ایک مزار پر گئیں۔
وزیر اعظم کے دفتر نے ابھی تک اس واقعے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔
اکی آبے کو مزار پرجانے اور اس کی تصاویر شائع کرنے کے بعد تنقید کا نشانہ بنایا گیا جب وہ چیری کھِلنے کے نظارے میں شریک تھیں۔ وہ لوگوں کو گھرمیں تنہائی اختیار کرنے کا مشورہ دے رہی تھیں اور خود ھجوم میں گھوم رہی تھیں۔ تاہم وزیراعطم آبے نے اس کا دفاع کیا اور کہا کہ یہ ایک ریستوراں میں نجی نوعیت کا اجتماع تھا۔
پیر کو جاپانی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن کے ذریعہ نشر ہونے والے ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ آبے حکومت کی مقبولیت میں مزید چارپوائنٹس کی کمی کے بعد ان کی مقبولیت 39 فی صد تک گر گئی ہے۔