.

ایرانیوں کے "خلیجِ فارس" کے لیے ماضی میں کون سے نام استعمال ہوتے رہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی باشندے بالخصوص فارسی قوم پرست افراد خلیج عربی کے لیے "خليجِ فارس" کے سوا کسی بھی دوسرے نام کے استعمال کے حوالے سے نہایت حساس واقع ہوئے ہیں۔ یہ نام 1926 میں رضا شاہ پہلوی کے ہاتھوں جدید ایرانی ریاست کے قیام کے بعد سے قومی تقاریر کا بنیادی حصہ بن چکا ہے۔

ایران کے سرکاری کیلنڈر میں بھی خلیج کا دن منانے کے روز "يومِ خليجِ فارس" تحریر ہوتا ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے بدھ کے روز امریکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے "يوم خليج فارس" کی اصطلاح استعمال کی۔ انہوں نے یہ بات امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی جانب سے "خليج عربی" کی عبارت استعمال کرنے کے جواب میں کہی۔ روحانی کا کہنا تھا کہ "اس خلیج کا نام خلیجِ فارس ہے ،،، یہ خلیجِ نیویارک یا واشنگٹن نہیں ہے"۔ روحانی کے مطابق ایرانی فورسز ہیں جو اس کا دفاع کر رہی ہیں۔ روحانی نے کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "میں اس قوم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں جس کے نام سے خلیج کو منسوب کیا گیا .. یہ خلیج اس قوم کی ملکیت ہے اور اسی کی رہے گی"۔ ایرانی صدر یہ بھول گئے کہ مذکورہ خلیج ان تمام اقوام کی ملکیت ہے جو اس کے ساحلوں پر بستی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے 23 اپریل کو فوکس نیوز کے ایک پروگرام میں انٹرویو دیتے ہوئے "خليج عربی" کی اصطلاح کا استعمال کیا تھا۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ ایرانی سینئر ذمے داران نے امریکی عہدے داران کو "خليج عربی" کی عبارت استعمال کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس سے قبل جولائی 2019 میں ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے "خلیج فارس کے تاریخی نام میں تحریف" کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے وضاحت طلب کی تھی۔

تاریخ میں اس تزویراتی آبی گزر گاہ کو کئی نام دیے گئے۔ ان ناموں میں دو ہزار سال قبل مسیح کے آس پاس "معبود کی زمین کا سمندر"، اشوریوں کی جانب سے "نار مرتو" (کڑوا دریا)، کلدانیوں کی جانب سے "بڑے سورج کے مشرق کا سمندر" اور یونانیوں اور رومیوں کی جانب سے "بحر احمر" شامل ہے۔

رومن مؤرخ بلینیوس نے اسے "خلیج عربی" کا نام دیا جب کہ اغریقی مؤرخ بطلیموس نے 150 قبل مسیح میں اسے "بحر ميسان" کا نام دیا۔ یہ نام جنوبی ایران میں اہواز میں واقع میسان کی عرب مملکت سے منسوب تھا۔

بعد ازاں اسے "بحر قطيف" ، "بحر بحرين" ، "بحر فارس" اور "خليج عربی" کے نام بھی دیے گئے۔ اس خلیج کو سب سے پہلے "بحر فارس" کا نام سکندر اعظم کے بیڑے کے سپہ سالار نیارخوس نے 325 قبل مسیح میں دیا۔ اسی طرح سلطنت عثمانیہ نے اسے "خليج بصرہ" کا نام دیا اور ترکی ابھی تک اسی نام کو استعمال کرتا ہے۔ جہاں تک عربوں کا تعلق ہے تو انہوں نے تاریخی طور پر اسے "خليج عمان" ، "خليج بحرين" اور "خليج قطيف" کے نام دیے۔

اب اس آبی گزر گاہ کا نام "خليج عربی" اور "خليج فارس" کے درمیان محدود ہو گیا ہے۔ عرب ممالک سرکاری طور پر اس کے لیے "خليج عربی" کی عبارت استعمال کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ اپنی کانفرنسوں ، خط و کتابت اور عربی زبان میں جاری دستاویزات میں یہ ہی عبارت استعمال میں لاتی ہے۔ عرب جغرافیائی تنظیمیں بھی خلیج عربی کے الفاظ کو استعمال کرتی ہیں۔ دوسری جانب "خليج فارس" کی عبارت جو ملک فارس کی طرف منسوب ہے ،،، اسے عالمی سطح پر کئی ادارے استعمال کرتے ہیں۔ ان میں اقوام متحدہ کی جانب سے عربی کے سوا بقیہ تمام زبانوں میں جاری دستاویزات شامل ہیں۔

آج ایرانی کلینڈر کے مطابق "يومِ خليج" کے موقع پر ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنجسیری نے بتایا کہ ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای نے خلیج کے جزیروں میں ہاؤسنگ کے لیے تعمیرات شروع کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ یہ ایران میں عرب علاقوں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی پالیسی کے ضمن میں ایک اور قدم ہے۔ ان جزیروں میں عرب باشندوں کی اکثریت بستی ہے جن کو ایران اپنا شہری شمار کرتا ہے۔ تاہم یہ لوگ غربت کا شکار ہیں۔ بعض ایسے جزیرے بھی ہیں جو بنیادی طور پر سکونت کے واسطے کسی طور مناسب نہیں۔

تنجسیری نے زور دے کر کہا کہ ایران خلیج میں غیر ملکی بیڑوں کی موجودگی کی اجازت ہر گز نہیں دے گا۔

تنجسیری کے مطابق ایرانی رہبر اعلی خلیج کی فارسیت کے حوالے سے جنونی ہیں۔ ساتھ ہی یہ دعوی بھی کیا کہ کویت اور بحرین درحقیقت "ايران" کا حصہ ہیں۔

تنجسیری کا کہنا ہے کہ رہبر اعلی ہمیشہ سے زور دیتے ہیں کہ مذکورہ جزیروں کے اصلی ناموں کا استعمال کیا جائے۔ جیسا کہ فاروران اور بوموسی وغیرہ۔

ایرانی کمانڈر کے مطابق خلیج کی فارسیت یہ باور کراتی ہے کہ بحرین 1977 تک ایران کا صوبہ تھا۔ علاوہ ازیں "كوت" جو آج کویت کے نام سے جانا جاتا ہے ،،، یہ نادر شاہ کا ایک عسکری کیمپ تھا۔ لہذا خلیج کا نام تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔