امریکا میں نسل پرستی کے خلاف پرتشدد مظاہروں میں 17 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

امریکی پولیس کے مبینہ تشدد سے ایک سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والے پرتشدد مظاہروں اور توڑپھوڑ کے واقعات کے دوران اب تک کم از کم 17 امریکی شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

امریکی ویب سائٹ ڈریسن کے مطابق متاثرین کی فہرست میں سابقہ اور موجودہ سکیورٹی اہلکار اور بے گناہ مسافر شامل ہیں۔ جو اپنے گھر واپس جانے یا اپنے ڈیوٹی اسٹیشنوں کی حفاظت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ انہیں بلوائیوں کے حملوں کا نشانہ بننا پڑا۔

امریکا میں پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے 17 افراد میں سے 13کی شناخت کرلی گئی ہے۔ ان میں سابق پولیس افسر 77 سالہ ڈیوڈ ڈورن، 29 سالہ پیری پرکنز،53سالہ ڈیوڈ مکاٹی،18 سالہ ڈوریان مورل،22 سالہ اٹالیا کیلی، 23 سالہ مارکیس ٹوکسن،43 سالہ کیلون ہارٹن جونیر، 22 سالہ جیمز اسکورلاک ، 27 سالہ وکوٹر کازاریز،53 سالہ پیٹرک انڈر ووڈ، جارج گومز،38 سالہ کریس پیٹی،50 سالہ مارون فرانکوئس شامل ہیں جب کہ پانچ مقتولین کی شناخت نہیں کی جاسکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں