.

لیبیا پر قبضے کے ترک خواب چکنا چور ہونے والے ہیں: لیبیئن نیشنل آرمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں ترکی کی حمایت یافتہ قومی حکومت کی جانب سے سرت شہر میں اضافی فوجی نفری بھیجے جانے کے بعد لیبیا کی ’لیبیئن نیشنل آرمی‘ نے خبردار کیا ہے کہ اگر سرت پر حملہ کیا گیا تو اس کا عرب ممالک کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آئے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک بیان میں ’لیبیئن نیشنل آرمی‘ کے ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے ایک بیان میں کہا کہ سرت اور الجفرہ پر قبضے کی ترکی کوشش بری طرح ناکام ہو گی اور خلیفہ حفتر کی زیر کمان فوج لیبیا پر ترکی کے قبضے خواب چکنا چور کردے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ترکی نے سرت اور جفرہ شہروں پر حملہ کیا تو لیبیا پر انقرہ کے قبضے کے خواب چکنا چور کردیں گے۔

خیال رہے کہ ’لیبیئن نیشنل آرمی‘ نے بتایا گیا تھا کہ اس نے تزویراتی اہمیت کے حامل شہروں سرت اور الجفرہ کے اطراف میں ترک اور قومی وفاق حکومت کی فورسز کی نقل وحرکت نوٹ کی ہے۔ قومی وفاق حکومت سرت اور الجفرہ کی طرف پیش قدمی کے لیے اپنی قوت مجتمع کر رہی ہے۔ سرت اور الجفرہ پرچڑھائی میں فائز سراج کی قومی حکومت کو ترک فوج اور شامی اجرتی قاتلوں کی معاونت بھی حاصل ہے۔

سرت شہر کی اہمیت

لیبیا کا ساحلی شہر سرت اپنے تزویراتی محل وقوع کے سبب اہمیت کا حامل ہے جو ملک کے مشرقی اور مغربی حصوں کو ملاتا ہے۔ یہ لیبیا کے سابق سربراہ معمر قذافی کا آبائی شہر ہے اور بعد ازاں داعش تنظیم کا گڑھ بن گیا۔

ترکی کے ایوان صدارت کے ترجمان ابراہیم قالن نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ لیبیا میں مستقل فائر بندی ،،، سرت شہر سے خلیفہ حفتر کی افواج کے انخلا کی متقاضی ہے۔ قالن نے فرانس پریس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ترکی وفاق حکومت کو سپورٹ کر رہی ہے تا کہ 2015 کی پوزیشن پر واپسی کو ممکن بنایا جا سکے۔ یہ پوزیشن سرت اور الجفرہ سے حفتر کی فوج کے انخلا کا تقاضا کرتی ہے۔

ادھر مصر ایک سے زیادہ مرتبہ زور دے کر یہ کہہ چکا ہے کہ وہ مصر کی مغربی سرحد جو لیبیا کے ساتھ ملتی ہے ،،، اس کے لیے کسی خطرے کی اجازت نہیں دے گا۔ مزید برآں یہ کہ سرت اور الجفرہ شہروں کو پار کرنا مصر کے حوالے سے سرخ لکیر شمار ہو گا۔

لیبیا کی سرحد کے نزدیک مصری مشقیں

دوسری جانب مصر فوج لیبیا کی سرحد کے نزدیک "حسم 2020" کے نام سے ایک فوجی مشق کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ مشق ترکی کی جانب سے بحیرہ روم میں مشقوں کی انجام دہی کے جواب میں عمل میں لائی جا رہی ہے۔

العربیہ کے نمائندے نے بتایا ہے کہ مصر کی مسلح افواج مذکورہ مشق لیبیا کی سرحد کے نزدیک مغربی تزویراتی سمت انجام دے رہی ہے۔

اس سے قبل ترکی کی بحریہ نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ آئندہ عرصے میں لیبیا کے ساحلوں کے نزدیک بڑے پیمانے پر بحری مشقیں انجام دے گا۔ ترکی میڈیا کے مطابق ان مشقوں کو "نیفٹیکس" کا نام دیا جائے گا۔ یہ لیبیا کے ساحلوں کے نزدیک 3 مختلف علاقوں میں ہوں گی۔

مذکورہ مشقوں کا اعلان ترکی کی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل عدنان اوزبل کے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے دورے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔ اس دورے میں اوزبل کے ہمراہ ترکی کے وزیر دفاع حلوصی آقار بھی تھے۔