.

چین میں امریکی شہری بلاجواز پکڑ دھکڑ سے بچنے کے لیےسفرسےگریزکریں:محکمہ خارجہ کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے محکمہ خارجہ نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ چین میں زیادہ محتاط رہیں کیونکہ ان کے خلاف بلا انتباہ اور بلاجواز قانون کا نفاذ کیا جاسکتا ہے اور انھیں حراست میں لینے کے علاوہ ملک بدر بھی کیا جاسکتا ہے۔

محکمہ خارجہ نے ہفتے کے روز چین میں مقیم امریکی شہریوں کو یہ سکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے۔اس نے مزید کہا ہے کہ ’’ امریکی شہریوں کو قونصلر خدمات تک رسائی دیے یا ان کے مبینہ جرائم بتائے بغیر گرفتار کیا جاسکتا ہے۔‘‘

اس نے مزید کہا ہے کہ امریکی شہریوں کو چین کی ریاستی سکیورٹی کو جواز بنا کر طویل مدت تک زیر تفتیش رکھا جاسکتا ہے اور انھیں توسیعی حراست کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اس نے خبردار کیا ہے کہ چین کے’’ سکیورٹی اہلکار امریکی شہریوں کو چینی حکومت کے خلاف تنقیدی برقی پیغامات پر گرفتار کرسکتے ہیں اور یا انھیں ملک بدر کرسکتے ہیں۔‘‘

لیکن اس نے کسی امریکی شہری کی گرفتاری یا حراست میں لینے کی کسی مثال کا حوالہ دیا ہے اور نہ یہ وضاحت کی ہے کہ اس نے کس بنیاد پر اچانک یہ سکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے۔چین نے فوری طور پر اس بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

محکمہ خارجہ نے یہ انتباہ ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب امریکا اور چین کے درمیان کرونا وائرس (کووِڈ-19) کی وبا ، تجارت ، ہانگ کانگ میں نئے سکیورٹی قانون کے نفاذ اور سنکیانگ میں یغور مسلمانوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سمیت مختلف امور پر سخت کشیدگی پائی جارہی ہے۔

امریکا نے جمعرات کو یغور مسلمانوں سے ناروا سلوک کے ذمے دار چار چینی عہدے داروں پر پابندیاں عاید کی تھیں۔واشنگٹن اور بیجنگ نے حال ہی میں ایک دوسرے کے سرکاری عہدے داروں پر ویزے کی پابندیاں بھی عاید کی ہیں۔

امریکا سے پہلے گذشتہ بدھ کو آسٹریلیا نے چین میں مقیم اپنے شہریوں کو اسی قسم کا انتباہ جاری کیا تھا اور انھیں خبردار کیا تھا کہ انھیں چین میں بلاجواز گرفتار کیا جاسکتا ہے لیکن چین نے آسٹریلیا کے اس انتباہ کو’’مکمل طور پر مضحکہ خیز اور غلط اطلاع‘‘ پر مبنی قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔