.

قطرپر فضائی حدود بند کرنے کا حق ہے،عالمی تنظیم سے رجوع کریں گے:سعودی عرب،امارات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ گروپ چار میں شامل ممالک کو قطر کے طیاروں پر اپنی فضائی حدود میں داخلے پر پابندی عاید کرنے کا حق حاصل ہے اور اس سلسلے میں شہری ہوابازی کی بین الاقوامی تنظیم (آئی سی اے او) سے رجوع کیا جائے گا۔

ان دونوں ملکوں کے اس اعلان سے قبل ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف نے قراردیا ہے کہ آئی سی اے او کو ملکوں کے درمیان فضائی حدود سے متعلق تنازعات طے کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

نیدرلینڈز میں متعیّن یو اے ای کی سفیرہ حصہ عبداللہ العتیبہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ عالمی عدالت انصاف نے فنی بنیاد پر فیصلہ کیا ہے اور اس کو طریق کار کے ایشوز تک محدود رکھا ہے۔اس نے کیس کے میرٹ کو ملحوظ نہیں رکھا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ’’اس فیصلے میں بعض اہم نکات ہیں اور یو اے ای اور گروپ چار بین الاقوامی تنظیم برائے شہری ہوابازی کی کونسل میں اس کیس کی سماعت کے دوران میں ان پر انحصار کریں گے۔ہم نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ فیصلے میں بہت سے اہم سوالوں کے جواب نہیں دیے گئے ہیں۔اب انھیں ہم آئی سی اے او کی کونسل کے سامنے رکھیں گے۔‘‘

حصہ العتیبہ نے مزید کہا ہے کہ ’’یو اے ای کے قطر کو فضائی حدود کے استعمال سے روکنے کے لیے اقدامات بدستور نافذ العمل رہیں گے۔ہم کونسل کے روبرو ان کے جواز کی وضاحت کریں گے اور یہ بتائیں گے کہ قطر کی جانب سے دہشت گردی اور دہشت گرد گروپوں کی حمایت کے پیش نظر یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا:’’یہ بحران آئی سی اے او یا کسی اور بین الاقوامی تنظیم کے فورم پر حل نہیں ہوگا ۔ جی سی سی کے رکن ممالک کے درمیان تعلقات قطر کی جانب سے الریاض سمجھوتے پر عمل درآمد سے ہی بہتر ہوں گے۔ نیز وہ اس بات پر بھی آمادگی کا اظہار کرے کہ وہ خطے میں تعمیری کردار ادا کرے گا۔‘‘

نیدر لینڈز میں سعودی سفیر عبدالعزیز بن عبداللہ ابو حیمد نے کہا ہے کہ ان کا ملک عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا احترام کرتا ہے لیکن وہ یہ وضاحت کرنا چاہتا ہے کہ یہ فیصلہ آئی سی اے او کے دائرہ اختیار تک محدود ہے اور اس کا قطر کی شکایت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ، مصر اور بحرین پر مشتمل گروپ چار نے جون 2017ء میں قطر کے ساتھ ہرطرح کے سفارتی ، تجارتی اور مواصلاتی روابط منقطع کر لیے تھے اور اس پر دہشت گردی اور دہشت گرد گروپوں کی مالی معاونت کا الزام عاید کیا تھاجبکہ قطر نے اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے۔