.

چین کی کمیونسٹ پارٹی کی امریکی عہدے داروں کے خلاف پابندیاں چلنے کی نہیں:سینیٹر ٹیڈ کروز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینیٹروں نے چین کے بعض امریکی عہدے داروں کے خلاف پابندیوں کے فیصلے پر کڑی نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح اس نے ہانگ کانگ میں جاری اپنے کریک ڈاؤن پر سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے۔

سینیٹر ٹیڈ کروز کے ترجمان لورن بلیئر آرنسن نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے:’’چین کی کمیونسٹ پارٹی یہ خیال کرتی ہے کہ وہ سینیٹر کروز پر دوبارہ پابندیاں عاید کرکے ہانگ کانگ میں حرّیت پسند جمی لائی کی گرفتاری سمیت کریک ڈاؤن سے توجہ ہٹا سکتی ہے تو وہ غلطی پر ہے اور اس کا یہ حربہ چلنے کا نہیں۔‘‘

قبل ازیں چینی وزارت خارجہ نے آج سوموار سے سینیٹر کروز ، سینیٹر مارکو روبیو اور بعض دوسرے امریکی عہدے داروں کے خلاف پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔

اس نے یہ اقدام امریکا کی جانب سے چین اور ہانگ کانگ کے گیارہ عہدے داروں کے خلاف پابندیوں کے اعلان کے ردعمل میں کیا ہے۔امریکا نے ان چینی عہدے داروں پر ہانگ کانگ میں شہری آزادیوں کا گلہ گھونٹنے کا الزام عاید کیا ہے۔

چین نے گذشتہ ماہ جولائی میں بھی سینیٹر روبیو اور کروز کے علاوہ کانگریس کے رکن کرس اسمتھ اور سفیر برائے مذہبی آزادی سام براؤن بیک کے خلاف پابندیاں عاید کی تھیں۔یہ چاروں کانگریس کے ایگزیکٹو کمیشن برائے چین کے ارکان ہیں اور چین کی حکمراں کمیونسٹ پارٹی کی اقلیتی گروپوں اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے خلاف پالیسیوں کے سخت ناقد ہیں۔