.

ایردوآن کے مظالم سے تنگ کئی ترک شہریوں‌ نے یونان سے پناہ مانگ لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحیرہ روم میں تیل اور گیس کے وسائل کی تلاش کے عمل کے نتیجے میں ترکی اور اس کے پڑوسی ملک یونان کے درمیان کشیدگی کے جلو میں یہ اطلاعات آئی ہیں کہ ترک صدر طیب ایردوآن کے مظالم سے تنگ 26 ترک شہریوں‌نے ایتھنز سے پناہ کی درخواست کی ہے۔ یہ تمام ترک شہری ماہی گیروں کی کشتیوں پر اتوار کے روز یونانی جزیرے خیوس پہنچے۔ یونانی کوسٹ گارڈ حکام کا کہنا ہے کہ جزیرے میں‌پہنچنے والے ترک شہریوں کو عارضی طور پر اپنی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

کوسٹ گارڈ حکام کا کہنا ہے کہ ترکی سے پناہ کے لیے آنے والے ترک شہریوں میں بچی بھی شامل ہیں۔

ادھر یونان کے ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ ترک صدر طیب ایردوآن کے ظلم سے تنگ درجنوں ترک شہری اپنا ملک چھوڑ کر یونان میں سیاسی پناہ لینا چاہتے ہیں۔

ایک ذریعے نے بتایا کہ ترکی سے آنے والے مسافروں نے سمندر میں اپنی کشتی کو دانستہ طورپر شگاف کردیا تاکہ یونانی کوسٹ گارڈ حکام ان کی مدد کو پہنچ سکیں۔ یونانی حکام نے ترکی سے آئے تمام افراد کو کرونا وبا کے پیش نظر لیفکونیا کے مقام پر ایک قرنطینہ مرکز منتقل کردیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں‌جب ترکی سے حکومت کے مظالم سے تنگ شہری ملک چھوڑنے پرمجبور ہوئے ہیں۔ تین ہفتے قبل 23 ترک باشندے سیاسی پناہ کی تلاش میں یونان کے جزیرہ خیوس پہنچے تھے۔

ترکی میں سنہ 2016ء کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد حکومت نے اپنے ہی شہریوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ سرکاری ملازمین، فوجیوں، پولیس حکام اور دیگر تمام سرکاری اور نجی اداروں‌ وابستہ ہزاروں افراد کو بغیر کسی جرم کے برطرف کرنے اور انہیں جیلوں میں قید کرنے کا ظالمانہ سلسلہ جاری ہے۔