.

لندن کے ایک ریلوے اسٹیشن میں 'مسلح روبوٹ' سے کرونا کے خلاف جنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس وقت پوری دنیا میں 31 ملین سے زیادہ افراد کی زندگیاں کرونا کی وجہ سے داو پرلگی ہوئی ہیں۔ دنیا بھر میں اس وبا کا جن قابو میں لانے کے لیے طرح طرح کے طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اسی ضمن میں لندن کے سینٹ پینکرس انٹرنیشنل ریلوے اسٹیشن پر انتظامیہ نے کرونا سے لڑنے کے لیے 'مسلح روبوٹ' رکھے ہیں۔ ان روبوٹس سے الٹرا وائلٹ شعاعیں خارج ہوتی ہیں جو اسٹیشن پرآنے جانے والے مسافروں کو لگتی ہیں۔ ان شعاعوں کی مدد سے کرونا وائرس کو کچلنے میں مدد لی جا رہی ہے۔

برٹش ریلوے اور ہائی ویز اتھارٹی کے جاری کردہ تازہ ترین سالانہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مارچ 2019 ء کے بعد 46 اعشاریہ 6 ملین مسافروں نے سینٹ پینکراس انٹرنیشنل اسٹیشن اسٹیشن سے سفر کیا۔ اس طرح یہ ملک کا نواں مصروف ترین ٹرین اسٹیشن بن گیا ہے۔ بیان میں‌ کہا گیا ہے کہ کرونا کی وبا میں تیزی کے بعد ریلوے سفر میں کمی دیکھی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' کے مطابق ہائی اسپیڈ ون چینل ریلوے میں آپریشنز اور اسٹیشن انجینئرنگ کے سربراہ جے نیوٹن نے کہا کہ ہمارے لیے بنیادی مقصد گاہکوں کا اعتماد حاصل کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سینٹ پینکراس اس نوعیت کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا پہلا ٹرین اسٹیشن ہے کیونکہ ہم لوگوں کو ٹرین اسٹیشن کو بحفاظت استعمال کرنے کی اجازت دینا چاہتے ہیں اور سفر کو آہستہ آہستہ معمول پر لانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ روبوٹ کیمیائی جراثیم کش مواد کے بغیر الٹرا وایلیٹ شعاعوں کا استعمال کرتے ہوئے کرونا کی روک تھام میں مدد دیتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی سے کچھ منٹ کے اندر اندر سطح کے اطراف اور آس پاس کی ہوا میں کرونا وائرس سمیت تقریبا دیگرتمام بیکٹیریاز کو سو فیصد ہلاک کرنے میں مدد ملتی ہے۔