.

ابوظبی : ائمہ، پادری اور پروہت کووِڈ-19 کے ٹیسٹ کی فیس سے مستثنیٰ قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ابوظبی میں مقیم مسلم ائمہ اور دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے پادریوں ، راہبوں اور ربیوں کو کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی فیس سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔

یو اے ای کے محکمہ کمیونٹی ڈویلپمنٹ اور ابوظبی کی ایمرجنسی کرائسیس اینڈ ڈیزاسسٹر اتھارٹی نے ایک مشترکہ بیان میں مذہبی قائدین کو کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی فیس معاف کرنے کی اطلاع دی ہے۔

محکمہ کمیونٹی ترقی نے کہا ہے کہ لائسنس یافتہ عبادت خانوں میں کام کرنے والے غیر مسلم پادریوں اور راہبوں کو مساجد کے مسلم ائمہ کی طرح ہی ٹیسٹوں کی فیس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

اماراتی حکومت نے ماہ یکم جولائی سے مساجد اور عبادت گاہوں کو بتدریج کھولنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کی شرط یہ عاید کی تھی کہ ان میں کل گنجائش کے مطابق صرف 30 فی صد عبادت گزاروں کو آنے کی اجازت ہوگی۔

نیشنل ایمرجنسی کرائسیس اور ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے یہ ہدایت کی تھی کہ’’عبادت گزاروں کو عبادت (نمازوں کی ادائی) کے وقت ایک دوسرے سے سماجی فاصلے کے قاعدے کی پاسداری کرنی چاہیے۔انھیں ایک دوسرے سے تین میٹر کا محفوظ فاصلہ اختیار کرنا چاہیے،جمگھٹا نہیں لگانا چاہیے اور کسی بھی شکل میں ایک دوسرے سے مصافحہ نہیں کرنا چاہیے۔‘‘

نمازیوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنا مصلیٰ (جا نماز) گھر سے ساتھ لے کر آئیں۔وہ گھروں سے ہی وضو کرکے آئیں اور مساجد میں آنے سے قبل مسلسل ہاتھوں کو سینی ٹائز کریں۔ نیز نمازیوں کو ہر نماز کے وقت چہرے پر لازمی طور پر ماسک پہننا ہوگا۔

واضح رہے کہ یواے ای کی حکومت نے 16 مارچ کو ملک بھر میں مساجد سمیت تمام عبادت گاہوں میں چار ہفتے کے لیے پنجہ وقتہ نمازوں کی ادائی معطل کردی تھی اور پھر اس پابندی میں غیر معیّنہ مدت کے لیے توسیع کردی تھی۔ یہ فیصلہ ملک بھر میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حفاظتی احتیاطی اقدام کے طور پر کیا گیا تھا۔

محکمہ کمیونٹی ترقی نے ’’معمول کی زندگی کی طرف بتدریج واپسی‘‘ کے عنوان سے ایک رہ نما کتابچہ جاری کیا ہے۔اس میں تمام عبادت گزاروں اور ورکروں کے لیے رہ نما ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ انھیں عبادت خانوں یا کام کی جگہوں پر جانے اور وہاں سے واپسی کے لیے کن کن شرائط کی پاسداری کرنا ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں