.

ڈونلڈ ٹرمپ نومنتخب صدر جوبائیڈن کی جیت تسلیم کرنے سے انکاری،’’انتخابات ختم ہونے کے نہیں‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حریف جو بائیڈن کی صدارتی انتخابات میں جیت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ابھی صدارتی انتخابات ختم نہیں ہوئے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روزجو بائیڈن کی منگل کو منعقدہ صدارتی انتخابات میں جیت کے اعلان کے فوری بعد ایک بیان جاری کیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ ’’ہم سب جانتے ہیں کہ جو بائیڈن کیوں عجلت میں خود کو فاتح قرار دے رہے ہیں اور میڈیا میں ان کے اتحادی کیوں ان کی مدد کے لیے سخت محنت کررہے ہیں:وہ سچ کو طشت ازبام ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ایک سادہ حقیقت یہ ہے کہ یہ انتخابات اب ختم ہونے سے کوسوں دور ہیں۔‘‘
78 سالہ جو بائیڈن نے الیکٹورل کالج کے 538 میں سے 290 ووٹ حاصل کیے ہیں۔ انھیں جیت کے لیے 270 ووٹ درکار تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے 214 ووٹ حاصل کیے ہیں۔جوبائیڈن امریکا کے سب سے معمر صدر ہوں گے۔

جو بائیڈن کی صدارتی انتخاب میں جیت کے اعلان کے وقت ڈونلڈ ٹرمپ ورجینیا میں اپنے گالف کورس میں تھے۔بائیڈن نے اپنی آبائی ریاست پنسلوانیا میں بھی ٹرمپ کو شکست سے دوچار کیا ہے اور وہ وائٹ ہاؤس پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

صدر ٹرمپ صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ سے قبل بھی بڑے پیمانے پر فراڈ اور دھاندلیوں کے بلاثبوت الزامات عاید کررہے تھے۔انھوں نے ٹویٹر پر اپنے بیانات میں کہا تھا کہ بعض ریاستوں میں جوزف بائیڈن کے حق میں ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔انھوں نے ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں پر بالخصوص اپنے شکوک وشبہات کا اظہار کیا ہے۔

انتخابی نتائج کے ابتدائی اعلان کے بعد انھوں نے اپنی شکست کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’جو بائیڈن کسی ایک ریاست میں بھی کوئی مصدقہ فاتح نہیں ہیں۔چہ جائیکہ وہ مسابقتی ریاستوں میں دوبارہ گنتی سے قبل ہی فاتح ٹھہرے ہوں یا ان ریاستوں میں ان کی جیت ہوئی ہو جہاں ہماری مہم نے جائز اور قانونی عذرداریاں دائر کی ہیں اور ان ہی سے حقیقی فاتح کا پتا چلے گا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’آیندہ سوموار سے ہماری مہم عدالت میں ہمارے کیس کی پیروی کرے گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ انتخابی قوانین کی مکمل طور پر پاسداری کی گئی ہے اور ایک درست فاتح کرسی صدارت پر متمکن ہوا ہے۔امریکی عوام ایک دیانت دار الیکشن کے حق دار ہیں۔اس کا یہ مطلب ہے کہ تمام قانونی ووٹوں کی گنتی کی جائے اور کسی غیر قانونی ووٹ کو شمار نہ کیا جائے۔صرف اس طریقے ہی سے ہمارے نظام انتخاب پر عوام کے مکمل اعتماد کو بحال کیا جاسکتا ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’’صرف ایک جماعت غلط روی کا ارتکاب کرتے ہوئے مبصرین کو عدالت کے کمرے سے باہر رکھے گی اور پھر عدالت میں ان کی رسائی روکنے کے لیے لڑے گی۔چناں چہ بائیڈن کیا چھپا رہے ہیں،میں اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھوں گا جب تک امریکی عوام کے ووٹوں کی دیانت دارانہ گنتی نہیں ہوجاتی،وہ اس کے حق دار ہیں اور یہ جمہوریت کا بھی تقاضا ہے۔‘‘

انھوں نے اپنی شکست کے بعد عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے الیکشن میں اپنی جیت اور اپنے حریف امیدوار کے حق میں ہزاروں نامعلوم ووٹ پڑنے سے متعلق ٹویٹر پر بہت سے دعوے کیے تھے لیکن مائکروبلاگنگ کی اس ویب سائٹ نے ان کی متنازع ٹویٹس کو ہٹا دیا تھایا ان میں سے بعض کے ساتھ انتباہ جاری کیا تھا کہ ’’اس ٹویٹ کا تمام یا بعض مواد متنازع اور الیکشن یا کسی دوسرے شہری عمل سے متعلق گمراہ کن ہوسکتا ہے۔‘‘