.

کرونا کا پہلا مریض اٹلی میں نومبر 2019ء میں سامنے آچکا تھا: نئی تحقیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پوری دنیا میں ڈرامائی انداز میں پھیلنے والی کرونا وبا کے بارے میں ایک نیا اور چونکا دینے والا انکشاف ہوا ہے۔ ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نومبر 2019 میں ایک بچہ جو صرف چار سال کا تھا اٹلی میں کرونا وائرس سے متاثر ہوچکا تھا۔ یعنی یہ وائرس چین میں دریافت ہونے سے چند ہفتے قبل اور یورپ میں وبا کے پھیلنے سے چند مہینے پہلے وجود میں آچکا تھا۔

اگر یہ تحقیق حقیقت پر مبنی ہے تو کرونا کے آغاز کے بارے میں پائے جانے والے خیالات غلط ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ عام تاثر یہ ہےکہ یہ وبا چین سے پھیلی اور وہاں سے پوری دنیا میں پہنچ گئی۔

محققین کا کہنا تھا کہ نومبر 2019 میں ایک اطالوی بچے پر کیے جانے والے ایک ٹیسٹ سے معلوم ہوا ہے کہ وہ کرونا وائرس سے متاثر ہوا تھا۔ اس انکشاف نے کرونا وبا کی زمانی ابتدا کے بارے میں پائے جانے والے خیالات غلط ثابت کر دیے ہیں تاہم اس حوالے سے ابھی طور پر سائنسدان کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔

"کوویڈ 19" وائرس کے پھیلنے کی اطلاع سب سے پہلے پچھلے سال دسمبر میں چین کے صوبہ ووہان سے آئی تھی۔

برطانوی پریس کے ذریعہ شائع رپورٹ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بھی موصول ہوئی ہے جس میں‌ بتایا گیا ہے کہ اٹلی میں اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ ابتدائی طور پر سوچا گیا تھا اس سے کہیں زیادہ پہلے یہاں تک کہ پورے یورپ میں یعنی مہینوں پہلے وائرس پھیل چکا تھا۔ تاہم اٹلی میں سرکاری طور پر کرونا کا پہلا کیس فروری 2020 رجسٹرڈ کیا گیا تھا۔

سائنسدانوں نے دسمبر کے اوائل میں ایک چار سالہ لڑکے جو میلانو کے قریب ہی رہائش پذیر تھا میں "کوویڈ 19" انفیکشن کی نشاندہی کی تھی ۔ بچے میں نومبر میں کھانسی اور دیگر علامات ظاہر ہوئی تھیں۔

لیکن سائنس دانوں نے اس بچے کے بارے میں یا اس کے آس پاس کون تھا اس کا ذکر نہیں کیا؟ یہ واضح نہیں ہے کہ اس نے دوسروں کو بھی متاثر کیا تھا کیوں کہ بچوں میں اس وائرس کے پھیلاؤ کا امکان کم ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ستمبر اور فروری کے درمیان 39 مریضوں سے اکھٹے کیے ٹیسٹوں کے نمونوں میں ایک بچے کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

محققین نے بتایا کہ اطالوی بچے نے نومبر میں سردی اور فلو جیسی علامات کی شکایت کی۔ اس کے بعد دسمبر کے شروع میں اس کے جسم پر خسرہ کے دانے نکل آئے تھے۔

یہ نتیجہ یونیورسٹی آف میلانو کے سائنس دانوں کے ذریعہ کی جانے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا ہے جسے متعدی امراض کے آزاد ادارتی جریدے میں شائع کیا گیا۔