.

فوجیوں کے انخلا کی تیاری ، امریکی بحری جنگی جہاز صومالیہ پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) نے منگل کے روز اعلان کیا کہ جنگی جہازوں کا ایک مجموعہ صومالیہ کے ساحل کے نزدیک تعینات کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد افریقا کے اس شورش زدہ ملک سے تقریبا 700 امریکی فوجیوں کے انخلا کے عمل کو سپورٹ کرنا ہے۔

مذکورہ امریکی بحری جہازوں کا مجموعہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے صومالیہ میں کئی برسوں سے موجود امریکی فوجیوں کے انخلا کا حکم جاری ہونے کے 16 روز بعد براعظم افریقا کے نزدیک پہنچا ہے۔ امریکی فوجی سخت گیر جماعت حرکت الشباب کے خلاف کارروائیوں کے لیے صومالیہ بھیجے گئے تھے۔

افریقا میں امریکی کمان نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ "بحری مجموعہ صومالیہ میں امریکی عسکری اور شہری افراد کو مشرقی افریقا میں دیگر کارروائیوں کے مقامات تک پہنچائے گا۔ اس دوران شدت پسند عناصر پر دباؤ اور شراکت دار فورسز کی سپورٹ کا سلسلہ برقرار رہے گا"۔

واضح رہے کہ 4 دسمبر کو ڈونلڈ ٹرمپ نے صومالیہ میں موجود امریکی فوجیوں کی اکثریت کے 2021ء کے اوائل میں یعنی اقتدار سے اپنے رخصت ہونے سے قبل انخلا کا حکم جاری کیا تھا۔ انہوں نے افغانستان اور عراق سے اپنی افواج کے انخلا میں بھی تیزی دکھائی۔ اس کا مقصد اپنے اس وعدے کو پورا کرنا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اپنی مدت صدارت کے آخری ہفتوں کے دوران بیرون ملک "ان جنگوں کو ختم کر دیں گے جن کی کوئی انتہا نہیں ہے"۔

اس طرح ٹرمپ اپنے جاں نشیں جو بائیڈن کے لیے افغانستان اور عراق میں صرف 2500 امریکی فوجی چھوڑ کر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

صومالیہ سے کوچ کرنے والے 700 امریکی فوجی اہل کاروں میں زیادہ تر کو کینیا یا جیبوتی میں تعینات کیا جائے گا جہاں رہ کر وہ حرکت الشباب جماعت پر دباؤ کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔

امریکی فوج نے کئی برسوں سے صومالیہ کی حکومتی فورسز کے تعاون سے حرکت الشباب جماعت کو ڈرون طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا۔