.

نیتن یاھو عدالت میں پیش، بدعنوانی کے الزامات کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے کل سوموار کے روز عدالت میں پیشی کے دوران اپنے اوپر عاید کردہ بدعنوانی کے الزامات کی سختی سے تردید کی۔

بنجمن نیتن یاھو مقبوضہ مشرقی یروشلم میں عدالت کے سامنے پیش ہوئے اپنے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی تردید کی۔ اسرائیل میں دو سال سے کم عرصے میں چوتھے پارلیمانی انتخابات تک چھ ہفتوں میں نیتن یاھو کے کرپشن کیسز بھرپور سماعت ہوگی۔ نیتن یاھو آنے والے الیکشن میں ایک بار پھر جیت کرحکومت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نیتن یاھو پہلا وزیر اعظم سمجھا جاتا ہے جن پر کرپشن کیسز میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔ ان پر رشوت کے طور پر بیش قیمت تحائف وصول کرنے اور بااثر ذرائع ابلاغ کو مثبت میڈیا کوریج کے بدلے باقاعدہ سہولیات فراہم کرنے کا الزام ہے۔

نیتن یاھو جو ان الزامات کو "من گھڑت اور مضحکہ خیز" سمجھتے ہیں نے عدالت کے اندر صرف بیس منٹ گزارے۔ انہوں‌ نے عدالت میں پیشی کے وقت سیاہ رنگ کا ماسک پہن رکھا تھا۔ انھیں الزامات کا سرکاری جواب دینے کے لیے ججوں کے سامنے پیش ہونا پڑا۔

خاتون جج او ربنچ میں شامل فیلڈ مین فریڈمین نے مقدمے کی سماعت سے قبل آخری ابتدائی سماعت کا آغاز کیا جس میں نیتن یاھو پرعاید کردہ الزامات کی تفصیل پڑھ کرسنائی گئی۔ اس موقعے پر نیتن یاھو نے کہا کہ میں اپنے تحریری جواب کی تصدیق کرتا ہوں جو میری طرف سے عدالت میں جمع کرایا گیا ہے۔

آئندہ سماعت میں گواہی پیش کرنے اور فرد جرم عاید کیے جانے پر توجہ دی جائے گی۔

نیتن یاھو کے چلے جانے کے بعد وزیر اعظم کے وکیل بوز بین ززور نے اسرائیلی اٹارنی جنرل ایویچائی منڈلبلٹ پرنیتن یاہو کیس میں غلط طریقہ کار اپنانے کا الزام عاید کیا۔