یمن میں حوثیوں کے تشدد میں اضافے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے:حکومت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کی آئینی حکومت نے حوثی باغیوں کی جانب سے ملک میں جارحانہ کارروائیوں میں اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جارحیت میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کی حوثی امن نہیں چاہتے۔

حوثیوں کی جانب سے امن کوششوں کو دانستہ طور پر نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ایک طرف عالمی برادری یمن میں تنازع کے سیاسی حل کی تلاش کے لیے کوشاں ہے اور دوسری طرف حوثی جنگ کا دائرہ بڑھا رہے ہیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کی حوثی امن نہیں چاہتے۔ حوثیوں‌ کی طرف سے عسکری کارروائیوں میں اضافے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔

یمن کی آئینی حکومت کی کابینہ کا اجلاس عبوری دارالحکومت عدن میں وزیراعظم ڈاکٹر معین عبدالملک کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں حوثی باغیوں‌ کی جانب سے سعودی عرب میں شہریوں اور سعودی سرزمین کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی۔ یمن کی سرکاری نیوز ایجنسی 'سبا' کے مطابق وزیراعظم عبدالملک نے کہا کہ عالمی برادری کی طرف سے یمن میں قیام امن کے لیے کوششیں‌ شروع کی ہیں مگر حوثیوں‌ کی طرف سے نہتے شہریوں پر حملے جاری رہنا اور پڑوسیوں کا امن تباہ کرنے کی سازشیں بدستور جاری رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حوثی امن نہیں چاہتے۔

یمنی حکومت نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثی ملیشیا کی طرف سے امن کوششوں کو تباہ کرنے کا نوٹس لیں اور حوثیوں پر امن بات چیت کی طرف آنے کے لیے دبائو ڈالیں۔ انہوں‌ نے کہا کہ حوثیوں کی طرف سے جارحیت جاری رکھنے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔

یمن کی آئینی حکومت کے مطابق حوثی باغی سرکاری فوج اور مزاحمتی تنظیموں کے ہاتھوں بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانے کے بعد وحشیانہ کارروائیوں اور طاقت کے اندھے استعمال پر اتر آئے ہیں۔



مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں