جوبائیڈن آرمینیائی نسل کشی تسلیم کرنے والے پہلے صدربن جائیں:امریکی سینیٹروں کامطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی سینیٹ کے 35 ارکان نے صدر جوزف بائیڈن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آرمینیا میں ترکی کی سابق سلطنت عثمانیہ کی افواج کی نسل کشی کو تسلیم کرلیں۔اس طرح وہ یہ فیصلہ کرنے والے امریکا کے پہلے صدر ہوں گے۔

ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹروں کے ایک گروپ نے صدر جوزف بائیڈن کے نام ایک خط لکھا ہے اور اس میں ان سے کہا ہے کہ ’’ماضی میں دونوں جماعتوں کی انتظامیہ آرمینیا میں قتل عام کی سچائی کے بارے میں خاموش رہی ہے۔ہم آپ پر زوردیتے ہیں کہ پیچیدگی کے اس انداز کو ختم کریں اور آرمینیائی باشندوں کی نسل کشی کو سرکاری طور پر تسلیم کریں۔‘‘

ان کے پیش رو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ وہ 1915ء میں پہلی عالمی جنگ کے دوران میں ترک فوج کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کے قتلِ عام کو نسل کشی خیال نہیں کرتی ہے جبکہ امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں نے 2019ء میں ایک قرار داد کے ذریعے عثمانی ترکوں کی فوج کے ساتھ لڑائی میں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دیا تھا جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس قرارداد سے لاتعلق کا اظہار کیا تھا۔

امریکا کے سابق صدور یہ دلیل دیتے رہے ہیں کہ آرمینیا کی نسل کشی کو تسلیم کرنے سے نیٹو اتحادی ترکی کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ آسکتا ہے لیکن جوزف بائیڈن نے گذشتہ سال انتخابی مہم کے دوران میں کہا تھا کہ وہ آرمینیا میں نسل کشی کو تسلیم کرنے سے متعلق بل کی حمایت کریں گے۔

امریکی سینیٹروں نے خط میں صدر جوبائیڈن کو باور کرایا ہے کہ ’’ماضی میں آپ نے آرمینیا میں قتل عام کو نسل کشی کے طور پر تسلیم کیا تھا اور 2020ء میں انتخابی مہم کے دوران میں آرمینیا کی یادگار کے دن کے موقع پر بھی اس مؤقف کا اعادہ کیا تھا۔ہم آپ سے اب یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ صدر کے طور پر یہ واضح کردیں کہ امریکی حکومت اس خوف ناک سچائی کو تسلیم کرتی ہے۔‘‘

گذشتہ سال اس قتل عام کی برسی کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا بیسویں صدر کے بدترین قتل عام کے متاثرین کوخراج عقیدت پیش کرتا ہے لیکن انھوں نے اس بیان میں نسل کشی کی اصطلاح استعمال نہیں کی تھی۔اس کے بجائے انھوں نے آرمینیا اور ترکوں پر زوردیا تھا کہ وہ اپنی دردناک تاریخ کو تسلیم کریں اور اس پر غور کریں۔

واضح رہے کہ امریکا کے سابق صدر براک اوباما نے بھی بہ طور امیدوار انتخابی مہم کے دوران میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ منتخب ہونے کی صورت میں آرمینیائی باشندوں کے قتلِ عام کو نسل کشی تسلیم کریں گے لیکن اپنی جیت کے بعد انھوں نے اس اصطلاح کو استعمال نہیں کیا اور اس کے بجائے ان کا کہنا تھا کہ وہ وائٹ ہاؤس میں آنے سے قبل کے مؤقف اور نقطہ نظر کے حامل ہیں۔

آرمینیا کا کہنا ہے کہ سلطنت عثمانیہ کی فوج نے پہلی عالمی جنگ کے دوران میں پندرہ لاکھ افراد کا قتلِ عام کیا تھا۔اس کا مقصد مسیحی نسلی گروپ کی تطہیر تھا۔ترکی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ پہلی عالمی جنگ میں سلطنتِ عثمانیہ کی فوج کے ساتھ جنگ میں بہت سے آرمینیائی باشندے ہلاک ہوگئے تھے لیکن وہ انھیں ایسے منظم انداز میں قتل کرنے کے الزامات کی تردید کرتا ہے جنھیں مغرب کی اصطلاح میں نسل کشی قرار دیا جا سکے۔ مغربی ممالک ایک عرصے سے آرمینیائی باشندوں کی ہلاکتوں کو نسل کشی قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔

یادرہے کہ 1916ء میں ترکی میں متعیّن امریکی سفیر ہینری مورگنتھاؤ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔انھوں نے کہا تھا کہ وہ ترکی کی جانب سے آرمینیا میں تباہی کو روکنے میں ناکام رہے تھے اور ترکی میرے لیے خطرناک جگہ بن گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں