.

ایرانی انٹیلی جنس کا سابق صدر احمدی نژاد کو ’نفسیاتی علاج‘ کرانے کا مشورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے انٹلی جنس اور سیکیورٹی سروسز میں اسرائیل کے اثر و رسوخ کے بارے میں سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے حالیہ بیانات کے جواب میں انٹلی جنس وزیر کے معاون خصوصی نے کہا کہ یہ بیانات "شخصی فریب کاری" کا نتیجہ ہیں۔

ایرانی انٹیلی جنس اہلکار کا یہ بیان ایران کی طلبا نیوز ایجنسی ’ایسنا‘ نے شائع کیا ہے۔ انہوں نے نام لیے بغیر احمدی نژاد کو "نفسیاتی علاج کرانے اور فریب دہی سے اجتناب برتنے " کا مشورہ دیا۔

پچھلے دنوں شائع ہونے والے ایک ویڈیو انٹرویو میں سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا تھا کہ وزارت انٹیلی جنس میں اسرائیلی جاسوسی کی روک تھام کرنے والے سیکشن کا انچارج سینیر عہدیدار خود ایک اسرائیلی جاسوس تھا۔

احمدی نژاد نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل ایران میں پیچیدہ کاروائیاں کرنے اور حساس مراکز سے اہم ترین جوہری اور خلائی دستاویزات چرانے میں کامیاب ہے تو یہ کامیابی ان جاسوسوں کے ذریعے ممکن ہوئی ہے جو ایرانی انٹیلی جنس اداروں میں گھسے ہوئے ہیں۔

احمدی نژاد کے یہ بیانات اسرائیلی خفیہ ایجنسی (موساد) کے سابق سربراہ ، یوسی کوہن کے گذشتہ جمعرات سامنے آنے والے ایک انٹرویو کے بعد سامنے آئے ہیں۔ یوسی کوھن نے اعتراف کیا تھا کہ اسرائیل نے مخبروں اور جاسوسوں کی مدد سے ایران کے اہم ریاستی اور حساس راز چوری کیے تھے۔

مسٹر کوہن نے بتایا کہ اس آپریشن میں حصہ لینے والے موساد کے 20 ایجنٹ اب بھی زندہ ہیں اور کچھ ایران سے فرار ہوگئے ہیں۔

موساد کے اس سینیر اہلکار کے مطابق 20 میں سے کوئی بھی اسرائیلی یا یہودی نہیں تھا۔ کوہن نے بتایا کہ ’موساد‘ دو سال سے اس آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔

مئی 2018 میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاھو نے ایرانی دارالحکومت تہران کے علاقے تورقوز آباد سے ایرانی جوہری مواد چوری کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک خفیہ کارروائی کے ذریعے 55،000 دستاویزات سمیت "آدھے ٹن سے زیادہ ثبوت چوری کرلیے گئے ہیں۔ ایران کے عماد جوہری منصوبے سے متعلق یہ خفیہ مواد 183 سی ڈیزمیں محفوظ ہے۔