.

ایرانی اپنے تحفظات کوبالائے طاق رکھ دیں،صدارتی انتخابات میں بھرپورحصہ لیں:حسن روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدرحسن روحانی نے اپنے ہم وطنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ دیں اور جمعہ کو صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ میں بھرپورانداز میں حصہ لیں۔

حسن روحانی نے صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ کے آغاز سے چند گھنٹے قبل ایرانیوں سے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کی اپیل کی ہے۔انھوں نے ایک نشری تقریر میں ایرانی ووٹروں سے مخاطب ہوکرکہا کہ’’ وہ کسی ایک ادارے یا گروپ کی کمیوں،کوتاہیوں کی وجہ سے ووٹنگ کے عمل سے کنارہ کشی اختیار نہ کریں۔‘‘ ان کا بظاہر اشارہ شورائے نگہبان کی جانب تھا۔انھوں نے کہا کہ ہمیں ووٹنگ پر اپنے تحفظات کو مقدم نہیں رکھنا چاہیے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی بدھ کو اپنے ہم وطنوں پر زوردیا تھا کہ وہ جمعہ کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں بھرپورحصہ لیں کیونکہ ان انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ اورایران پر بیرونی دباؤ کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ’’اگر لوگ پولنگ کے عمل میں بھرپور طریقے سے شریک نہیں ہوتے ہیں تو دشمن کی جانب سے دباؤ میں اضافہ ہوگا۔اگر ہم دباؤ اور پابندیوں میں کمی چاہتے ہیں تو لوگوں کی شرکت میں اضافہ ہونا چاہیے اور نظام کو حاصل عوامی مقبولیت دشمن پر ظاہرہونی چاہیے۔‘‘

خامنہ ای نے ایک نشری تقریر میں کہا کہ ’’تمام ایرانیوں کواپنی سیاسی ترجیحات سے قطع نظرجمعہ کو اپنااپنا ووٹ ڈالنا چاہیے۔انھوں نے امریکی اوربرطانوی میڈیا پرالزام عاید کیا کہ ’’وہ ایرانیوں کی ووٹنگ میں حصہ لینے کی حوصلہ شکنی کررہا ہے اور صدارتی انتخابات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہا ہے۔‘‘

تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی قیادت کی اپیلوں کے باوجود صدارتی انتخابات میں ریکارڈ کم ٹرن آؤٹ متوقع ہے کیونکہ لوگ انتخابی عمل میں کوئی زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں۔

رائے عامہ کے سرکاری جائزوں کے مطابق صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 41 فی صد تک رہنے کا امکان ہے۔ماضی میں کسی صدارتی انتخاب میں اتنی کم تعداد میں ووٹ نہیں ڈالے گئے تھے۔

ایران کی شورائے نگہبان نے سیکڑوں امیدواروں میں سے صرف سات کو صدارتی انتخاب لڑنے کا اہل قراردیا تھا لیکن ان میں سے بھی تین امیدوار دستبردار ہوچکے ہیں۔اس وقت صدارتی انتخاب میں اصل مقابلہ عدلیہ کے سربراہ ابراہیم رئیسی اورمرکزی بنک کے سابق گورنرعبدالناصر ہمتی کے درمیان ہے۔عبدالناصرہمتی کودوسرے صدارتی امیدواروں کے مقابلے میں’’اعتدال پسند‘‘ قراردیا جارہا ہے۔بعض اصلاح پسند گروپوں نے ہمتی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

ان دونوں کے علاوہ نمایاں صدارتی امیدوارایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ اور مصالحتی کونسل کے موجودہ سیکریٹری محسن رضائی ہیں۔چوتھے صدارتی امیدوار رکن پارلیمان امیرحسین غازی زادہ ہاشمی ہیں۔وہ نسبتاً کم زور سیاست دان خیال کیے جاتے ہیں اور مذکورہ تینوں امیدواروں کے مقابلے میں کوئی زیادہ معروف بھی نہیں۔

ایرانی ووٹر شورائے نگہبان کی جانب سے بعض معروف اعتدال پسند امیدواروں کو نااہل کرنے کے فیصلے پر نالاں ہیں۔اس کے علاوہ وہ امریکی پابندیوں،بدانتظامی اور ارباب اقتدار کی بدعنوانیوں کے نتیجے میں گوناگوں معاشی مشکلات سے دوچار ہوچکے ہیں۔چناں چہ وہ پورے انتخابی عمل ہی پر اپنے عدم اعتماد کا اظہار کررہے ہیں۔

اس کا اندازہ 55 سالہ ایرانی خاتون فاطمہ کی گفتگو سے کیا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ووٹنگ میری ذہانت کی توہین ہوگی کیونکہ ابراہیم رئیسی کو تو حکومت پہلے ہی منتخب کرچکی ہے۔اب اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ میں کس کے حق میں ووٹ ڈالوں۔‘‘انھوں نے شناخت کے خوف سے اپناپورا نام نہیں بتایا۔

ایران میں اور بیرون ملک مقیم نظام مخالف سیاسی لیڈربھی اپنے ہم وطنوں پر زوردے رہے ہیں کہ وہ انتخابی عمل میں حصہ نہ لیں۔دوسری جانب اصلاح پسند لیڈر عبدالناصر ہمتی کی حمایت میں پیش پیش ہیں۔ان میں سابق صدرمحمد خاتمی بھی شامل ہیں۔ وہ ووٹروں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کریں کیونکہ اس صورت میں تو ابراہیم رئیسی کی یقینی جیت کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

ایرانی وزیرداخلہ کے مطابق پولنگ کا عمل جمعہ کی صبح سات بجے شروع ہوگا اور یہ ہفتے کو علی الصباح دو بجے تک جاری رہے گا۔ملک بھر میں 67 ہزار پولنگ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ووٹروں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چہرے پر ماسک پہن کر آئیں،ووٹ ڈالتے وقت سماجی فاصلہ برقرار رکھیں اور ووٹ پرچی پر نشان لگانے کے لیے اپنا قلم گھر سے لے کر آئیں۔