.

شام کے دیرالزورمیں امریکی فوج اور ایرانی ملیشیا میں تصادم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ ’سیرین آبزر ویٹری‘ کے مطابق سوموار کی شام دیر الزور کے مشرق میں العمر آئل فیلڈ پرتوپ خانے سے داغے متعدد گولے گرے۔ یہ آئل فیلڈ امریکی فوج کے ایک اڈے کے طورپر استعمال کیا جا رہی ہے۔

حملے میں متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا تاہم جانی نقصان کی کوئی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی ملیشیا نے مغربی فرات کے علاقے میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔ یہ حملہ دیر الزور سے کیا گیا۔

امریکی فوج کے ترجمان نے تصدیق کی کہ پیر کو امریکی فوجیوں پر متعدد راکٹوں سے حملہ ہوا لیکن ابتدائی اطلاعات میں کسی کے زخمی ہونے کی نشاندہی نہیں ہوئی۔

عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے اتحاد کے ترجمان کرنل وین ماروٹو نے ٹویٹ کیا کہ یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق 7:44 بجے ہوا ہے اور اس میں ہونے والے نقصان کا اندازہ لگایا جا رہاہے۔ ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ یہ حملہ کس نے کیا تھا۔

ایک امریکی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ شام میں امریکی افواج نے اپنے دفاع میں توپ خانے سے گولے فائر کرکے راکٹ فائر کا جواب دیا۔

دریں اثنا دیز الزور کے دیہی علاقوں میں دھماکوں کی آوازوں کے درمیان امریکی افواج اور "بین الاقوامی اتحاد" کے جنگی طیاروں کی نچلی پروازیں بھی دیکھی گئیں۔

یہ پیش رفت سوموار کے روز امریکی فوج کی طرف سے شام اور عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر کی گئی بمباری کے بعد سامنے آئی ہے۔