.

ایرانی کمانڈر کی عراق میں شیعہ ملیشیاؤں کو امریکی فوجیوں پرحملے تیزکرنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے ایک سینیر کمانڈر نے عراق میں شیعہ ملیشیاؤں پر زوردیا ہے کہ وہ امریکی فورسز پراپنے حملے تیز کردیں۔

عراق کے دوسکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف حسین تائب کی قیادت میں وفد نے گذشتہ ہفتے بغداد میں شیعہ ملیشیاؤں کے لیڈروں سے ملاقات کی تھی اور اس میں انھیں عراق میں امریکا کی تنصیبات اور فوجیوں پرحملے تیز کرنے کی ہدایت کی تھی۔

ان کے اس دورے سے ایک ہفتہ قبل ہی 27 جون کوامریکا نےعراق اورشام کے درمیان سرحدی علاقے میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے تھے۔ایرانی وفد نے عراقی ملیشیاؤں کو امریکی فوجیوں پر انتقامی حملوں کی تو ہدایت کی ہے لیکن ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اس محاذآرائی میں زیادہ شدت لانے سےگریز کیا جائے۔

تین ملیشیا ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی وفد نے عراق کے بجائے شام میں امریکی فورسز پرانتقامی حملے تیزکرنے کا مشورہ دیاتھا۔تاہم اس ایرانی وفد کے دورے کے بعد سے عراق میں امریکا کے زیراستعمال فوجی اڈوں کو متعدد راکٹ اور ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

حسین تائب نے عراقی ملیشیاؤں کے مختلف لیڈروں سے بغداد میں دریائے دجلی کے کنارے واقع ایک وِلا میں ملاقات کی تھی اور انھیں ایران کے رہبرِاعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کا عراق میں امریکی فورسز پر دباؤ برقرار رکھنے سے متعلق ایک پیغام پہنچایا تھا تاکہ انھیں خطے سے انخلا پرمجبور کیا جاسکے۔

ایران کے ایک سینیرسفارت کار کاکہنا ہے کہ تائب کے سفرِعراق سے ظاہرہوتا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای بغداد میں گذشتہ سال سپاہ پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرمیوں کی ذمہ دارالقدس فورس کے کمانڈرمیجرجنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد سے عراق کے امور کی خود براہ راست نگرانی کررہے ہیں۔

گذشتہ ماہ امریکا کے فضائی حملے کا نشانہ بننے والے ایران کے ملیشیاگروپوں میں سے ایک کے ترجمان نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فورسز پر ایران نواز ملیشیا’مزاحمت اسلامی عراق‘ نے ڈرون حملے کیے ہیں اور راکٹ داغے ہیں۔

کتائب سیّدالشہداء کے ترجمان کاظم الفرطوسی نے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فورسز کے خلاف فوجی محاذآرائی جاری رکھی جائے گی یہاں تک کہ تمام لڑاکا امریکی فوجی عراق سے واپس چلے جائیں۔

ایران کے حمایت یافتہ ایک اور گروپ عصائب اہل الحق کے سیاسی دفتر کے ایک سینیرعہدے دارسعدالسعدی کا کہنا ہے کہ ’’اگر امریکی فوج ایران نوازملیشیاؤں پر حملے جاری رکھتی ہے تو پھر عراق اور شام میں اس پر زیادہ بھرپورحملوں کی توقع کی جاسکتی ہے۔‘‘

تاہم اقوام متحدہ میں ایران کے ایلچی نے اسی ماہ امریکا کے ان الزامات کی تردید کی تھی جن میں اس نے کہا تھا کہ تہران عراق اور شام میں امریکی فورسز کے حملوں کی حمایت کررہا ہے۔انھوں نے ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں پر امریکا کے فضائی حملوں کی مذمت کی تھی۔