یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے خبردار کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے بچوں کو عسکریت پسند بنانے کا سلسلہ جاری ہے جس کی دنیا کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نواز دہشت گرد حوثی ملیشیا کے ہاتھوں پوری ایک نسل کے یرغمال بننے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
اتوار کے روز اپنی ٹویٹ میں الاریانی کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں ہزاروں بچوں کو تعلیم حاصل کرنے ، کھیلنے اور قدرتی شکل میں زندگی گزارنے سے مسلسل محروم کر رہی ہے۔ ملیشیا ان بچوں کو اپنے معرکوں کے ایندھن کے طور پر استعمال کر رہی ہے تا کہ تہران میں اپنے آقاؤں کے ایجنڈے کے کام آ سکیں۔
١-مشهد لمئات الأطفال في عمر الزهور اقتادتهم مليشيا الحوثي من منازلهم ومقاعد وفصول الدراسة لتزج بهم في أحد معسكراتها التدريبية تحت غطاء "المراكز الصيفية"، وكيف يجري تزييف وعيهم ومسخ هويتهم وتفخيخ عقولهم بالأفكار الطائفية المتطرفة المستوردة من إيران، وحشدهم للتوجه إلى جبهات القتال pic.twitter.com/5jvXtg0rZi
— معمر الإرياني (@ERYANIM) August 1, 2021
یمنی وزیر اطلاعات نے ایک منظر بھی پوسٹ کیا ہے جس میں پھول جیسے سیکڑوں بچوں کو حوثی ملیشیا ان کے گھروں اور اسکولوں کی کلاسوں سے کھینچ کر لے جا رہی ہے تا کہ ان بچوں کو "سمر کیمپ" کے نام پر اپنے ایک تربیتی عسکری کیمپ میں جھونک دے۔ وزیر اطلاعات الاریانی کے مطابق حوثی ملیشیا ان بچوں کے معصوم ذہنوں میں ایران سے درآمد شدہ شدت پسندانہ اور فرقہ ورانہ افکار کا زہر گھول رہی ہے۔
یمن میں بچوں کے حقوق سے متعلق تنظیم "سیاج" نے حوثی ملیشیا پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے رواں سال 2021ء میں چھ ہزار "سمر کیمپوں" کے ذریعے کم از کم پانچ لاکھ بچوں کو بھرتی کیا۔ تنظیم کے مطابق ملیشیا ان بچوں کو تربیت دے کر آئندہ مرحلے میں لڑائی کے محاذوں پر جھونکے گی۔
یاد رہے کہ رواں سال 18 جون کو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے حوثی ملیشیا کا نام تنازعات کے علاقوں میں بچوں کے حقوق کی پامالی کے مرتکب ممالک اور جماعتوں کی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا تھا۔