لبنان کے شمالی علاقے عکّار میں اتوار کی صبح ایندھن کے ایک ٹینکر میں زور دار دھماکا ہوا۔ صلیب احمر تنظیم کے مطابق حادثے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے۔
تنظیم نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ اس کی ٹیموں نے 20 لاشوں کو منتقل کیا۔ واقعے میں 76 افراد زخمی بھی ہوئے جن کو علاقے کے ہسپتالوں میں پہنچا دیا گیا۔
After seizing a fuel truck in the Lebanese northern provinces #Akar #عكار , and while people where gathering to collect the fuel, the truck suddenly exploded causing more than 50 casualties.
— Ric (@Ric_Matar) August 15, 2021
A result if the unsafe transportation and stockpiling of fuel.#Akarexplosion. pic.twitter.com/mOlrPCCUex
سوشل میڈیا پر گردش میں آنے والے وڈیو کلپوں میں دھماکے کی جگہ پر ایک بڑی آگ دیکھی گئی۔
سابق وزیر اعظم سعد حریری نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ "عکار کی ہلاکتیں بیروت بندرگاہ کی ہلاکتوں سے مختلف نہیں۔ اگر کوئی انسانیت کا احترام کرنے والی ریاست ہوتی تو اس غیر ذمے داری پر صدر سے لے کر آخری عہدے دار تک تمام ذمے داران مستعفی ہو چکے ہوتے ... صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے"۔
لبنان کو 2019ء کے موسم گرما سے غیر معمولی نوعیت کا اقتصادی بحران درپیش ہے۔ عالمی بینک نے اس بحران کو 1850ء کے بعد سے دنیا کا بدترین بحران قرار دیا ہے۔
اس بحران میں ملک بھر میں ایندھن کی سنگین قلت پیدا ہو گئی ہے۔ کل ہفتے کے روز لبنانی فوج ایندھن کے اسٹیشنوں پر تعینات ہو گئی تھی۔ لبنان کے مرکزی بینک کے گورنر نے بحران کی سنگینی کے باوجود ایندھن کی درآمد کے لیے دوبارہ سے سبسڈی دینے سے انکار کر دیا ہے۔