.
افغانستان وطالبان

طالبان نے وادیِ پنج شیر پرچڑھائی کی توانھیں مزاحمت کا سامناکرنا پڑے گا:احمد مسعود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں 1980ء کے عشرے میں سوویت فوجوں کی چڑھائی کے خلاف مزاحمتی جنگ میں اہم کردار جہادی لیڈر احمدشاہ مسعود مرحوم کے بیٹے احمد مسعود نے کہا ہے کہ وادیِ پنج شیر کوطالبان کے حوالے نہیں کیا جائے گا اوراگراس انتہاپسند گروہ نے وادی پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو ہمارے مزاحمتی جنگجو اس کا مقابلہ کریں گے۔

وہ العربیہ سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ماضی میں ہم نے سوویت یونین کی افواج کا مقابلہ کیا تھا اور اب ہم طالبان کا بھی مقابلہ کریں گے۔انھوں نے خبردارکیا ہے کہ اگر انتہاپسند گروہ نے بات چیت سے انکار کیا تو جنگ ’ناگزیر‘ہوگی۔

احمدمسعود نے ملک کا نظم ونسق چلانے کے لیے طالبان کی شمولیت سمیت ایک جامع اور مشمولہ حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

طالبان نے قبل ازیں 32 سالہ احمد مسعود کو کابل سے شمال میں واقع وادیِ پنج شیرچھوڑنے کے لیے چارگھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا۔پنج شیرہی میں افغانستان کے نائب صدرامراللہ صالح روپوش ہیں۔

مگراحمد مسعود نے العربیہ سے گفتگو میں اپنے کنٹرول والے علاقوں کوطالبان کے حوالے کرنے سے انکار کردیا ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگرافغانستان میں امن و سلامتی کی شرائط پوری کی جاتی ہیں تو وہ اپنے والد کوقتل کرنے پر طالبان کو معاف کرنے کو تیار ہیں۔

یادرہے کہ ان کے والد احمد شاہ مسعود کو 11 ستمبر 2001 کو امریکا پر القاعدہ کے حملوں سے چند روز قبل ایک بم دھماکے میں قتل کر یا گیا تھا۔تب القاعدہ کے جنگجوؤں نے ’طالبان کے افغانستان‘ میں پناہ لے رکھی تھی اور ان کے محفوظ ٹھکانے تھے۔ القاعدہ پر ہی احمد شاہ مسعود پر بم حملے میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

گذشتہ ہفتے احمد مسعود نے واشنگٹن پوسٹ میں شائع شدہ ایک ادارتی تحریر میں کہا تھاکہ طالبان کی جانب سے ملک پر قبضے سے قبل افغان فوج کے ارکان ان کے ہاں مزاحمت کے لیے جمع ہوگئے تھے کیونکہ ہم جانتے تھے کہ یہ دن آ سکتا ہے۔

انھوں نے لکھا تھا:’’ہمارے پاس گولہ بارود اور اسلحہ کے ذخائرموجود ہیں۔یہ ہتھیار ہم نے میرے والد کے دور سے اکٹھے کیے ہیں۔اس کے علاوہ ہماری صفوں میں شامل ہونے والے فوجی بھی اپنے ساتھ ہتھیارلے کرآئے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر طالبان جنگجو وادیِ پنج شیر پر حملہ کرتے ہیں تو یقیناً انھیں ہماری سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘