یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے حالیہ بیانات دراصل یمنی عوام کے خلاف اس کی سنگین خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔
اتحاد کے مطابق حوثی ملیشیا ان بیانات کے ذریعے اپنی پیدا کردہ معاشی مشکلات اور یمنی عوام کی تکالیف کی ذمہ داری سے بچنا چاہتی ہے، جبکہ قبائلی اور سماجی سطح پر بڑھتی ہوئی مخالفت پر بھی پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اتحاد نے مزید کہا کہ حوثی قیادت داخلی بحران کو چھپانے کے لیے ان مسائل کا رخ یمن کے علاقائی ماحول اور پڑوسی ممالک کی جانب موڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ حوثی ملیشیا کے یہ دعوے اس کی مسلسل اشتعال انگیزی اور جارحانہ طرزِ عمل کا تسلسل ہیں۔
ان کے مطابق حوثی ملیشیا ایسے اقدامات کے ذریعے نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و سلامتی کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
یمنی عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے سعودی اور بین الاقوامی اقدامات
اسی تناظر میں عرب اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ سعودی عرب نے اتحاد اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر حوثی ملیشیا کی بغاوت کے باعث یمنی عوام کو درپیش مشکلات کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے یمنی بحران کے سیاسی حل کے لیے ایک جامع روڈ میپ پر بھی کام کیا، جسے یمن کی قانونی حکومت نے قبول کر لیا، تاہم حوثی ملیشیا نے اسے مسترد کر دیا۔
حوثیوں کا امن کی کوششوں سے انکار
میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ حوثی ملیشیا نے مستقل امن کے تمام حل مسترد کر دیے ہیں۔ ان کے بقول، حوثیوں نے جنوبی بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں بین الاقوامی بحری جہاز رانی اور عالمی تجارت کو بھی نشانہ بنایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حوثی ملیشیا نے یمنی عوام کے قومی وسائل کو بھی خطرے میں ڈال دیا، جس کے نتیجے میں الحدیدہ، الصلیف اور رأس عیسیٰ کی بندرگاہوں کے علاوہ صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
ان کے مطابق اس سے بجلی گھروں، کارخانوں اور دیگر بنیادی معاشی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا، جو یمنی عوام کی معیشت کے لیے اہم حیثیت رکھتے ہیں۔
ترکی المالکی نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ عرب اتحاد سعودی عرب، اس کے شہریوں، قومی تنصیبات یا یمن کی خودمختاری کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا پوری قوت اور غیر معمولی سختی سے جواب دے گا۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد کے تمام اقدامات بین الاقوامی انسانی قانون اور اس سے متعلق رائج بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہوں گے۔