.

سعودی عرب دنیا میں یمن کو سب سے زیادہ انسانی امداد دینے والا ملک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب دنیا میں یمن کو سب سے زیادہ انسانی امداد دینے والا ملک ہے۔اس نے گذشتہ چھے سال کے دوران میں جنگ زدہ ملک کو 18 ارب ڈالرنقد یا امدادی سامان کی صورت میں دیے ہیں یا ان میں سے کچھ رقوم دینے کےوعدے کیے ہیں۔

سعودی عرب کے سرکاری خبررساں ادارے (ایس پی اے) کےمطابق شاہی دیوان کے مشیراور شاہ سلمان ریلیف اور امداد مرکز(کے ایس ریلیف) کے نگرانِ اعلیٰ ڈاکٹرعبداللہ بن عبدالعزیزالربیعہ نے کہا ہے کہ مملکت نے دنیا میں سب سے بڑے انسانی بحران کا شکار یمن کو صرف گذشتہ سال میں 84 کروڑ 80 لاکھ ڈالر فوری ہنگامی امداد کی شکل میں دیے تھے۔

ڈاکٹر الربیعہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76 ویں سالانہ اجلاس کے موقع پرسویڈن، سوئٹزرلینڈ اور یورپی یونین کی مشترکہ میزبانی میں عالمی ادارے کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں یہ اعدادوشمار پیش کیے ہیں۔

انھوں نے وضاحت کی کہ یمنی عوام کو گذشتہ دہائیوں کے دوران میں بڑے انسانی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ملک میں جاری تنازعات کی وجہ سے ان ہمہ نوع بحرانوں کو مہمیز ملی ہے۔

واضح رہے کہ عطیہ دہندگان ممالک نے گذشتہ چھے سال کے دوران میں یمن میں انسانی بحرانوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اربوں ڈالرمہیاکیے ہیں لیکن امدادی تنظیموں کو اب بھی کئی ایک رکاوٹوں اور چیلنجوں کا سامنا ہے۔ان میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے جاری انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں بھی شامل ہیں۔حوثی جنگجو یمن میں شورش زدہ علاقوں میں مستحقین تک امدادی سامان کی ترسیل میں اکثررکاوٹیں ڈالتے ہیں۔

ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے اس بات پربھی افسوس کا اظہارکیا ہے کہ یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں کی وجہ سے بچّے اور خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اوران کی خوراک اورضروری طبّی سامان تک رسائی محدود ہو کررہ جاتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ کے ایس ریلیف کے ذریعےاقوام متحدہ کے علاوہ عالمی اور مقامی غیرسرکاری تنظیموں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے مملکت کی جانب سے یمن میں انسانی امداد کی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔اس کے منصوبوں پر2021ء کے باقی عرصے کے دوران میں عمل درآمد کیا جائے گا۔ان منصوبوں کی مالیت کا تخمینہ 9 کروڑڈالر لگایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف مالی عطیات سے یمن میں انسانی بحران کا خاتمہ نہیں ہوگا اور یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ حوثی ملیشیا کی اقوام متحدہ کی تنظیموں اور بین الاقوامی غیرسرکاری تنظیموں کے خلاف جاری جارحیت یمنی عوام کے مصائب میں اضافہ کرتی ہے، خاص طور پران علاقوں میں جن پر ان کا کنٹرول ہے،یمنیوں کی امدادی سامان تک رسائی مشکل ہوجاتی ہے۔

اقوام متحدہ کا عطیات میں کمی پرانتباہ

دریں اثناء بین الاقوامی عطیہ دہندگان نے بدھ کو یمن کے بحران سے نمٹنے کے لیے 60 کروڑ ڈالر کی اضافی رقم دینے کا وعدہ کیا ہے۔قبل ازیں اقوام متحدہ اوردیگرامدادی اداروں نے خبردار کیا تھا کہ اگراس سال مزید رقوم مہیا نہیں کی جاتی ہیں توپھر اہم امدادی پروگراموں میں کٹوتی کرنا پڑے گی۔

اقوام متحدہ نے یمن میں جاری بحران کو دنیا کا سب سے بڑا انسانی المیہ قراردیا ہے۔اس نے اس کے لیے 3.85 ارب ڈالرکی امدادکی اپیل کی ہے۔گذشتہ روز اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطح کے اجلاس سے قبل اس امدادی رقم میں سے صرف نصف فراہم کی گئی تھی۔

یمن کے لیے بین الاقوامی سطح پررقوم کی عدم وصولی پر اقوام متحدہ کو بہت سے انسانی منصوبوں سے دستبردار ہونا پڑا ہے۔اس کے پیش نظراقوام متحدہ نے یمن میں قحط کے بڑھتے ہوئے خطرے سے خبردارکیا تھا۔

اس کے ردعمل میں رواں سال کے اوائل میں خوراک کے پروگراموں کے لیے مزید فنڈز دیے گئے تھے لیکن اس سے صفائی ستھرائی اور تحفظ صحت جیسے دیگر شعبوں کوکم مالی امداد فراہم کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے انڈرسیکرٹری جنرل اور ایمرجنسی ریلیف رابطہ کار، یمن میں سابق عالمی ایلچی مارٹن گریفیتھس نے اجلاس کو بتایا کہ انسانی امداد سے قحط کا خطرہ ٹالنےاور لوگوں کو تباہی کے دہانے سے پیچھے کھینچنےمیں مدد ملی ہے۔

اس اجلاس میں امریکا نے یمن کے لیے 29 کروڑ 10 لاکھ ڈالر، قطر نے 10 کروڑڈالر اور سعودی عرب نے نوکروڑ ڈالر اضافی امداد کے طور پر دینے کے وعدے کیے ہیں۔

اقوام متحدہ کے حقوقِ اطفال کے ادارے یونیسیف کے سربراہ نے بتایا کہ یمن میں ہردس منٹ میں ایک بچہ ہلاک ہو جاتا ہے، 23 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکارہیں اور 4 لاکھ بچّوں کو شدید غذائی قلت کے نتیجے میں موت کا خطرہ لاحق ہے۔

اس اجلاس میں عطیہ دہندگان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اضافی تعاون کریں اور تمام امدادی شعبوں کے لیے تقسیم کی بنیاد پر فنڈز مختص کریں۔

گریفیتھس نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں یمن کی امداد کے لیے کیے گئے 98 فی صد وعدے پورے ہوچکے ہیں۔اس کے نتیجے میں اب تک دو ارب ڈالر سے زیادہ کے فنڈز تقسیم کیے جاچکے ہیں۔