.

مصر میں سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکس لگانے کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تفریحی اور معلوماتی لوازمہ کی اشاعت سے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

مصر میں آن لائن پلیٹ فارمز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور شہریوں کی جانب سے بڑی تعداد میں ان پلیٹ فارمز کے استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے لیے لوازمہ تیار کرنے والوں کو حاصل ہونے والی آمدن کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے تاکہ ملکی ریونیو بڑھائی جا سکے۔

سنیچر کے روز ٹیکس حکام کے جاری کردہ بیان کے مطابق "وہ یو ٹیوبرز اور بلاگرز جو ان پلیٹ فارمز کے ذریعے سالانہ 32 ہزار ڈالرز کما رہے ہیں، ان پر ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔"

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق عرب دنیا میں دس کروڑ نفوس پر مشتمل آبادی والے ملک مصر کے 60 فیصد عوام کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے جس سے آن لائن سرگرمیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔

سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکس لگانے کے فیصلے پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک ٹوئٹر صارف کے مطابق "ٹیکس تو غریب سبزی فروش پر بھی لگتا ہے، یہ ان امیروں پر بھی لگنا چاہیے۔

تاہم ایک اور صارف کے بقول ’’اس اقدام سے سوشل میڈیا کے لیے تخلیقی لوازمہ تیار کرنے والے ماہرین بیرون ملک چلے جائیں گے۔‘‘

مصر کے محکمہ ٹیکس کے سینئر عہدیدار محمد الغیار نے سرکاری میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ "ملک میں ہر شعبے میں منافع کمانے والے شخص کو جائز ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔"

مصر میں سنہ 2018ء کے بعد سے 5000 سے زائد فالوورز رکھنے والے سوشل میڈیا صارفین کو کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہیں "فیک نیوز" شائع کرنے کے جرم میں عدالتی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔