.

ترکی کا ایران کے بعد آذربائیجان کے ساتھ سرحدی علاقے میں فوجی مشقوں کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے رواں ہفتے ایران کی سرحد سے متصل علاقے میں آذربائیجان کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کرنے کا اعلان کیا ہے۔ایران نے گذشتہ جمعہ کو آذربائیجان کی سرحد کے ساتھ فوجی مشق کی تھی اور باکو نے اس کے اقدام پر کڑی نکتہ چینی کی تھی۔

ترک وزارتِ دفاع کی خاتون ترجمان نے اتوار کے روزایک بیان میں کہا کہ بھائی چارہ فوجی مشق 2021ء 5 سے 8 اکتوبر تک آذربائیجان کے شہر نخچیوان میں کی جائے گی اور اس میں ترکی اور آذربائیجان کی مسلح افواج شرکت کریں گی۔

ایران کی بری فوج نے جمعہ کوآذربائیجان کے ساتھ واقع اپنے سرحدی علاقے میں مشقوں کا آغاز کیا تھا۔ایران کو آذربائیجان کے مغربی ممالک اوربالخصوص اسرائیل کے ساتھ تعلقات پراعتراض ہے۔اس کی برّی فوج کی مشقوں میں توپ خانے، ڈرونز اور ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ حسین امیرعبداللہان کا کہنا تھا کہ ’’ہم اپنی قومی سلامتی کے خلاف اسرائیل کی اپنی سرحدوں کے ساتھ موجودگی اور سرگرمی کو برداشت نہیں کرتے۔ہم اس سلسلے میں کوئی ضروری اقدام کریں گے۔‘‘

آذربائیجان اور اسرائیل نے حالیہ مہینوں میں اپنے فوجی اتحاد کو مضبوط کیا ہے۔اسرائیل کی جانب سے مہیا کردہ اعلیٰ ٹیکنالوجی کے حامل ڈرونز نے آذربائیجان کو گذشتہ سال نگورنو قراباخ کے متنازع علاقے میں آرمینیا کے خلاف جنگ میں مدد دی تھی۔

دوسری جانب ایران نے یہ الزام عاید کیا تھا کہ گذشتہ سال آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان مسلح تنازع کے دوران میں داعش کے جنگجوؤں کو بھی خطے میں لایا گیا تھا۔

ایران کی برّی فوج کے بریگیڈیئر جنرل کیومارس حیدری کا کہنا تھا کہ’’اسرائیل کے آلہ کاروں کی کھلم کھلا اور خفیہ موجودگی اورعلاقائی ممالک میں داعش کے دہشت گردوں کی نمایاں تعداد میں موجودگی کا امکان اس مشق کی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ ایران اورآذربائیجان کے درمیان واقع سرحد قریباً 700 کلومیٹر(430 میل) طویل ہے۔ایران میں آذری نسل کے لوگ بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ان میں کی اکثریت ملک کے شمال مغربی علاقوں میں رہتی ہے۔آذری ایران کا سب سے بڑا اقلیتی گروپ ہیں۔