.

سعودی عرب کووِڈ-19 وباکے اثرات سے نکل آیا،اپنی لچک ثابت کردی: خالدالفالح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی وزیربرائے سرمایہ کاری خالدالفالح نے کہا ہے کہ مملکت کووڈ-19 کی وبا کے اثرات سے نکل آئی ہےاوراس نے اپنی لچک کا ثبوت فراہم کردیا ہے۔وہ منگل کے روز دارالحکومت الریاض میں منعقدہ مستقبل سرمایہ کاری اقدام کانفرنس میں تقریرکررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’یہاں مملکت سعودی عرب میں مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ تمام ترغیریقینی کی صورت حال کے باوجودہم فی الواقع آگے نکل آئے ہیں۔اگرچہ کچھ نقصانات ہوئے ہیں مگرمملکت نے اپنی لچک کا ثبوت دیا ہے۔‘‘

اے پی سی او ورلڈ وائڈ کے سینئرمشیراوراین وائی یو ابوظبی میں بزنس کے پروفیسرجان ڈیفٹریوس نے کہا کہ کووِڈ-19 کی وبا’’تمام چیلنجوں کی ماں‘‘ہے۔انھوں نے سعودی عرب کے اس وبا سے نمٹنے کے لیے اقدامات کی تعریف کی۔

ان کے بہ قول انھوں نے محسوس کیا کہ ’’سعودی معاشرے میں اعتماد کی سطح اورسماجی معاہدے میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ سعودیوں کولگتا تھا کہ کووِڈ-19 کی وبا سے ایک بہت مشکل صورت حال پیدا ہوئی ہے۔انھوں نے محسوس کیا کہ حکومت کے نافذ کردہ سخت قوانین، طبی چیلنج کے فوری جواب، صحیح سرمایہ کاری اور درست قرنطین کے لیے موجود ہے‘‘۔

ڈیفٹریوس نے، جو نیا سماجی معاہدہ:حکومت اورکاروبار کا ابھرتا ہوا کردار' کے عنوان سے پینل کی میزبانی کررہے تھے، خالدالفالح سے پوچھا کہ اس وبا سے حاصل کردہ نمبر ایک سبق کیا ہے؟

اس پرانھوں نے کہا کہ’’ظاہر ہے،کووِڈ کی وبا ایک صدمہ رہی ہے، یہ کاروباری اداروں کے لیے ایک صدمہ ہے، یہ میرے خیال میں سب سے بنیادی طورپرخاندانوں کے لیے ذاتی سطح پرایک صدمہ ہے۔ہمارا تحفظ کا احساس نامعلوم لوگوں نے ہلا کر رکھ دیا تھا۔‘‘

’زندگی اورروزگارکے درمیان نازک توازن‘

خالدالفالح نے مزید کہا کہ سعودی عرب مسلم دنیا کا دل ہونے کی وجہ سے کووِڈ-19 کی وبا کا فوری جواب دے رہا ہے۔

انھوں نے یاد دلایا کہ مملکت نے حفظ ماتقدم کے طور پرمکہ مکرمہ اورمدینہ منورہ میں واقع مقدس مساجد میں داخلے پرپابندی عاید کردی تھی اوربالآخرمساجد میں نمازیں روک دی تھیں جبکہ حکومت کی توجہ ’روزی روٹی کے تحفظ ‘پربھی مرکوزتھی۔

سعودی وزیرسرمایہ کاری نے کہا کہ’’حکومت کے نزدیک زندگیاں بچانا پہلی ترجیح تھی لیکن ہم زندگیوں اور روزگار کے درمیان اس نازک توازن کوقائم کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور ہم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کاروباری تسلسل اس حد تک جاری رہے کہ یہ لوگوں کی حفاظت کی راہ میں حائل نہ ہو۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے اندر ہم نے کمپنیوں کوبروقت مدد فراہم کرنے کے لیے ایک میکانزم وضع کیا تھا۔اس کے علاوہ وزارت سرمایہ کاری کا کووِڈ رسپانس سینٹر ہفتے میں چوبیس گھنٹے کام کرتارہا ہے۔اس کے علاوہ لوگ سوشل میڈیا چینلزکے ذریعے رابطہ کرسکتے ہیں، کال یا ای میل کرسکتے ہیں، ملک میں داخل ہونے والی اشیاء جیسے معاملات کے لیے وزارتوں تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ان ہی اقدامات کی بدولت کاروباری برادری نے محسوس کیا کہ حکومت ان کے لیے موجود ہے۔