.
عراقی ملیشیا

عراق میں ہمارے مفادات پر حملوں میں ملوث گروپوں پر پابندیاں لگائیں گے: امریکی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بغداد میں امریکی سفیر میتھیو ٹولر نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ امریکا عراق میں واشنگٹن کے مفادات کو نشانہ بنانے والے غیر قانونی "مسلح گروپوں" پر پابندیاں عائد کرے گا۔

ٹولرنے اربیل شہرمیں منعقدہ "مشرق وسطیٰ فورم" کے موقع پرایک ڈائیلاگ سیشن سے خطاب میں کہا کہ "عراق میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے والے حملے غیر قانونی گروہوں کی طرف سے کیے جاتے ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا "ہم نے ایران اور ہمسایہ ممالک سے کہا ہے کہ وہ ایسا نہ کریں اور عراقی سرزمین کی خودمختاری کی خلاف ورزی سے باز آئیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ کردستان کے علاقے کو نشانہ بنانے والے حملوں کا مقصد وہاں کی صورتحال کو خراب کرنا تھا۔ ان حملوں کا ہدف نہ صرف امریکا ہے، بلکہ خطہ اور عراقی حکومت بھی اس کا ہدف ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ واشنگٹن عراق کودرپیش خطرات کو ختم کرنے کے لیے برسوں سے کام کر رہا ہے۔

کردستان اور وہاں پر موجود داعش مخالف عالمی اتحادی فوج پر ہونے والے حملوں کے خلاف جوابی کارروائی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہم واقعی ان حملوں سے نمٹتے ہیں اور ہماری فوج ان خطرات اور حملوں کے حجم کے مطابق جوابی کارروائی کرتی ہیں۔

امریکی سفیرنے مزید کہا کہ "میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہماری پابندیاں ان کالعدم گروہوں پر اثر انداز ہوں گی جو امریکی اور عراقی مفادات کو نشانہ بناتے ہیں،ان پابندیوں کا مقصد ان گروہوں کے طرز عمل کو تبدیل کرنا ہے جو عراق کی سلامتی اور استحکام کے لیے مستقل خطرہ ہیں ۔"

ایک دوسرے سیاق میں مسٹر ٹولر نے زور دیا کہ ایران کہ عراق کے معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ان کا کہنا تھا کہ عراقی اپنے ملک کے معاملات کو بیرونی مداخلت کے بغیر خود ہی چلا سکتے ہیں۔

امریکی سفیر نے عراقی الیکشن کمیشن کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے حالیہ پارلیمانی انتخابات کرانے میں کامیاب رہا ہے۔