.

کیا پوتین نے شام پر امریکی پابندیوں میں نرمی کے لیے اسرائیل سے مدد مانگی تھی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی "ایکسیوس" ویب سائٹ نے اسرائیلی حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین نے اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ سے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ شام پر ان کے ملک کی طرف سے لگائی گئی کچھ پابندیوں کو ہٹا دیں۔اس طرح روس کو شام میں تعمیرنو میں حصہ لینے کا موقع ملےگا۔

دسمبر 2019 میں امریکا نے شام پر "سیزر ایکٹ" کے نام سے جانے والی پابندیاں عائد کیں، جس میں توانائی اور انفراسٹرکچر سمیت شام کی معیشت کے متعدد شعبوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ قانون شام میں تعمیرنو میں حصہ لینے والی تمام غیر ملکی کمپنیوں کے لیے ایک اہم رکاوٹ بن گیا۔

"Axios" نے اسرائیلی حکام کے حوالے سے کہا کہ روسی صدر روسی کمپنیوں سے شام میں تعمیر نو کے منصوبوں کا بڑا حصہ حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، جس کا مقصد آمدنی اور روسی اثر و رسوخ دونوں کو بڑھانا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پوتین نے گذشتہ جمعے کو بحیرہ اسود کے ساحلی شہر سوچی میں اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ سے ملاقات کے دوران کہا کہ کچھ روسی کمپنیاں شام سے معاملات کرنے سے ڈرتی ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ وہ شام میں تعمیر نو میں حصہ لینے کی صورت میں امریکی پابندیوں کا شکار ہوسکتی ہیں۔

اسرائیلی حکام کے مطابق روسیوں کا خیال ہے کہ امریکی پابندیوں سے ایرانی کمپنیوں کے لیے راستہ کھلتا ہے جو پہلے ہی امریکی پابندیوں سے متاثر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ آیا انہوں نے پوتین کے ساتھ شام پر امریکی پابندیاں ہٹانے کے بارے میں پہلے ہی بات چیت کی تھی۔

ویب سائٹ نے اشارہ کیا کہ روس پر امید ہے کہ شام میں ایران کے اثر و رسوخ کو کمزور کرنے میں اسرائیل کی دلچسپی بینیٹ حکومت کو پابندیاں ہٹانے کے لیے بائیڈن انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔