.

سوڈان:جمہوریت نوازمظاہرین پرآنسوگیس کی شیلنگ اور فائرنگ؛ پانچ افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم اوردوسرے شہروں میں ہزاروں افراد نے فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کے لیے مظاہرے کیے ہیں اور ریلیاں نکالی ہیں۔سوڈانی سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کومنتشر کرنے کے لیے اشک آورگیس کے شیل اور براہ راست گولیاں چلائی ہیں جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

سوڈانی ڈاکٹروں کی مرکزی کمیٹی نے بتایا ہے کہ خرطوم اور اس کے جڑواں شہراُم درمان میں سیکورٹی فورسز کی مظاہرین پربراہ راست فائرنگ سے چار ہلاک ہوئے ہیں اور ایک شخص اشک آور گیس کا گولہ لگنے سے چل بسا ہے۔زخمیوں میں متعدد افراد کو گولیاں لگی ہیں۔

سوڈان کے جمہوریت نوازاتحاد میں شامل پروفیشنلزایسوسی ایشن اور مزاحمتی کمیٹیوں نے ان مظاہروں کی اپیل کی تھی۔ اپریل 2019 میں سابق مطلق العنان صدرعمرحسن البشیر کے خلاف عوامی بغاوت کو منظم کرنے میں ان دونوں گروپوں نے بنیادی کردارادا کیا تھا اورملک کی دوسری سیاسی جماعتیں اور تحریکیں بھی ان کے ساتھ جمہوریت کے لیے جدوجہد میں شامل ہو گئی تھیں۔ان کے زیراہتمام مظاہروں نے حکمران فوجی جنتا کے خلاف سخت نعرے بازی کی ہے اور ملک میں جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

دونوں گروپوں نے شراکت اقتدار کے معاہدے میں واپسی کی مخالفت کی ہے۔اس کے تحت 2019 کے آخر میں معزول عبوری حکومت قائم کی گئی تھی۔اب وہ انتقال جمہوریت کے عمل کی قیادت کے لیے حکومت شہریوں کو سونپنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

یہ مظاہرے فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان کے خود کوسوڈان کی نئی عبوری خودمختارکونسل کا دوبارہ چیئرمین مقرر کیے جانے کے دودن بعد کیے جارہے ہیں۔ان کے اس اقدام سے جمہوریت نوازاتحاد نالاں ہے جبکہ امریکااوردیگر دوسرے ممالک اس پرمایوسی کا اظہار کیاہے۔انھوں نے جرنیلوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی بغاوت کا اقدام واپس لیں۔

جنرل عبدالفتاح البرہان کے زیرقیادت سوڈانی فوج نے 25 اکتوبرکو اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا،عبوری حکومت کو تحلیل کر دیا اوردرجنوں عہدے داروں اور سیاست دانوں کو گرفتارکرلیا تھا۔اس فوجی بغاوت کے خلاف دارالحکومت خرطوم کی سڑکوں اور ملک کے ددوسرے شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں اور کیے جارہے ہیں۔

جنرل البرہان اپریل 2019ء میں سابق مطلق العنان صدرعمرحسن البشیر کو معزول کرنے کے بعد قائم کردہ عبوری کونسل کے سربراہ بھی تھے۔اس کونسل کو انھوں نے خود ہی گذشتہ ماہ ایک مختصر فوجی انقلاب کے بعد توڑدیا تھا۔اس طرح ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے ہونے والی تمام پیش رفت معکوس ہوگئی ہے۔

دریں اثناء سوڈان میں اقوام متحدہ کے ایلچی وولکر پرتھیس بحران کے پُرامن انداز میں حل کے لیے کوشاں ہیں اور انھوں نے سیکورٹی فورسزپرزوردیا کہ ’’وہ مظاہروں کے دوران میں ’’انتہائی تحمل سے کام لیں‘‘ اور مظاہرین سےبھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’’پرامن احتجاج کے اصول کو برقرار رکھیں‘‘۔

سوڈانی ڈاکٹروں اور اقوام متحدہ کے مطابق فوجی قبضے کے بعد سے اب تک ملک کی سیکورٹی فورسز کی جانب سے ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کی وجہ سے بغاوت مخالف کم سے کم 20 مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں۔

پرتھیس نے بتایاکہ انھوں نے جمعہ کو خرطوم میں مزاحمتی کمیٹیوں کے نمایندوں، سول سوسائٹی کے کارکنوں اور محمد حسن التیشی کے ساتھ ’’مفید بات چیت‘‘کی ہے، مؤخرالذکرسوڈان کی تحلیل شدہ خود مختار کونسل کے سویلین رکن تھے۔معزول حکومت میں وزیرانصاف نسرین عبدالباری بھی اس ملاقات میں موجود تھیں۔