عالمی سلامتی کونسل کے 15 ارکان رواں ہفتے ایتھوپیا میں فائر بندی کا مطالبہ کرنے سے متعلق متفقہ بیان جاری کرنے میں ناکام رہے۔ بیان میں ٹگرائے کے علاقے میں نسلی بنیادوں پر گرفتاریوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جانا تھا۔ یہ بات آج ہفتے کے روز سفارتی ذرائع نے بتائی۔
ایک سفارت کار نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن آئرلینڈ کی جانب سے پیش کیے جانے والے مسودے کو چین اور روس نے مسترد کر دیا۔
کئی دیگر سفارتی ذرائع نے باور کرایا کہ بیان کے حوالے سے "اتفاقِ رائے" نہیں پایا جاتا ہے۔
بیان کے متن میں سلامتی کونسل نے مطالبہ کیا تھا کہ ایتھوپیا میں انسانی امدادات بنا کسی رکاوٹ پہنچائی جائے ، معاند کارروائیاں ختم کی جائیں اور ایک جامع قومی مکالمے کا آغاز کیا جائے۔
بیان کے مسودے میں ایتھوپیا میں اقوام متحدہ کے ملازمین کی گرفتاری پر سلامتی کونسل کی گہری تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا کہ گرفتار شدگان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
ایتھوپیا نے گذشتہ ہفتے ملک بھر میں چھ ماہ کے لیے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کر دیا تھا۔ اس دوران میں ٹگرائے لبریشن فرنٹ کے جنگجوؤں اور ان کے اتحادیوں کی دارالحکومت ادیس ابابا کی جانب پیش قدمی سے اندیشوں میں بھی اضافہ ہوا۔
کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو ایتھوپیا سے نکل جانے کے لیے کہا ہے جب کہ ملک کے شمال میں باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان تنازع سنگین شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
-
سعودی عرب کا ایتھوپیا کے تمام متحارب فریقین پر جنگ بندی کے لیے زور
جمعرات کے روز سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے افریقی ملک ایتھوپیا میں ہونے والے واقعات ...
مشرق وسطی -
ایتھوپیا میں سلامتی کی بگڑتی صورت حال: ’’سعودی شہری ملک چھوڑ دیں‘‘
ایتھوپیا میں سعودی سفارتخانے نے سعودی شہریوں کو جلد از جلد ایتھوپیا چھوڑنے کی ...
بين الاقوامى -
ایتھوپیا: ابی احمد نے مزید پانچ سال کے لئے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا لیا
ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد نے ایک بار پھر سے پانچ سال کی مدت کے لئے وزارت ...
بين الاقوامى