یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے الزام عائد کیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے شہری تنصیبات کو "بارودی سرنگوں کے میدان" میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان بارودی سرنگوں کا نشانہ بن کر ہزاروں خواتین ، بچے اور عمر رسیدہ افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ الاریانی کے مطابق مذکورہ شہری مقامات میں رہائشی علاقے، گھر، مساجد اور اسکول شامل ہیں۔
١-المشاهد التي وثقتها الهندسة العسكرية، لتفكيك شبكة الغام وعبوات ناسفة زرعتها مليشيا الحوثي المدعومة من ايران، داخل مسجد "الحي القيوم" بقرية القضيبة المحررة مؤخرا بمديرية حيس، يكشف مستوى إجرامها ووحشيتها، وتنصلها من كل القيم والضوابط والاعتبارات الدينية والإنسانية والاخلاقية pic.twitter.com/9PhlG125T1
— معمر الإرياني (@ERYANIM) November 27, 2021
ہفتے کے روز عربی اور انگریزی زبانوں میں کی گئی ٹویٹ میں یمنی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حوثیوں نے حیس ضلع میں حال ہی میں آزاد کرائے گئے گاؤں القضیبہ کی ایک مسجد میں بارودی سرنگیں بچھائیں اور دھماکا خیز مواد نصب کیے۔ یہ سرنگیں اور مواد سیکڑوں بے قصور افراد کی ہلاکت کے لیے کافی تھا۔
الاریانی نے مزید کہا کہ اس امر سے حوثی ملیشیا کی مجرمانہ اور وحشیانہ روش کی سطح کا پتہ چلتا ہے۔ ایران نواز ملیشیا نے تمام مذہبی ، انسانی اور اخلاقی اقدار کو مسخ کر ڈالا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری یمنیوں کے خلاف حوثی ملیشیا کے غیر معمولی جرائم کے سامنے چُپ کھڑی ہے۔
١-المشاهد التي وثقتها الهندسة العسكرية، لتفكيك شبكة الغام وعبوات ناسفة زرعتها مليشيا الحوثي المدعومة من ايران، داخل مسجد "الحي القيوم" بقرية القضيبة المحررة مؤخرا بمديرية حيس، يكشف مستوى إجرامها ووحشيتها، وتنصلها من كل القيم والضوابط والاعتبارات الدينية والإنسانية والاخلاقية pic.twitter.com/9PhlG125T1
— معمر الإرياني (@ERYANIM) November 27, 2021
یمنی وزیر اطلاعات نے عالمی برادری ، اقوام متحدہ اور امریکا اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ شہری مقامات پر ممنوعہ بارودی سرنگیں بچھانے کی مذمت کریں کیوں کہ یہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم ہیں۔ مزید یہ کہ حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
یمن میں بارودی سرنگوں کی رصد گاہ نے رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران میں متعدد یمنی صوبوں میں حوثی ملیشیا کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا شکار ہو کر 101 افراد کے مرنے کی تصدیق کی ہے۔