یمن اور حوثی

لبنانی حزب اللہ یمنی حوثیوں کو سعودی عرب پرحملوں کی تربیت دے رہی ہے:عرب اتحاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عرب اتحاد نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے یمنی تنازع میں ملوّث ہونے اور سعودی عرب کو نشانہ بنانے کے لیے جنگ زدہ ملک کے ہوائی اڈے کو استعمال کرنے کے شواہد کا انکشاف کیا ہے۔

عرب اتحاد کے ترجمان نے صحافیوں کو حزب اللہ کے ارکان کی تصاویر دکھائی ہیں جو حوثی ملیشیا کو دھماکا خیز مواد سے لدے ڈرون چھوڑنے کی تربیت دے رہے تھے۔

اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئرجنرل ترکی المالکی نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں کہا:’’حوثیوں میں یہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں کہ وہ یمن کے سیاسی حل کا حصہ بن سکیں‘‘۔

انھوں نے مزیدکہا کہ لبنان کی دہشت گرد تنظیم حزب اللہ نے خطے اور دنیا میں تباہی اور بربادی پھیلائی ہے اور سعودی عرب اور یمن میں شہریوں کو نشانہ بنانے کی ذمے داری اسی ملیشیا پرعاید کرتی ہے۔

ترکی المالکی نے زور دے کر کہا کہ ’’ایرانی حکومت تباہی پھیلانے کے لیے خطے میں اپنی آلہ کار تنظیموں کی سرپرستی کرتی ہے۔ یمن کی حوثی ملیشیا نے ایران ہی سے اپنا فرقہ وار نظریہ اپنایا ہے‘‘۔

ترجمان نے بتایا کہ حوثیوں نے2015ء میں یمن میں جنگ شروع ہونے کے بعد سعودی عرب پر 430 بیلسٹک میزائل اوردھماکا خیز مواد سے بھرے 851ڈرون داغے ہیں۔ان حملوں کے نتیجے میں 59 سعودی شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔

حوثیوں نے حالیہ مہینوں میں یمن سے سعودی عرب پر اپنے حملوں میں اضافہ کردیا ہے اور سرحدپارسے سعودی شہروں کی جانب بیسیوں فضائی حملے کیے ہیں۔ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا نے دھماکاخیز مواد سے لدے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے مملکت میں شہری علاقوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

عرب اتحاد اس جارحیت کے ردعمل میں یمن میں حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں پرفضائی حملے کررہا ہے۔ان میں ان کے ہتھیاروں اور اہم فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں