یمن اور حوثی

حزب اللہ سعودی عرب اور یمن میں شہریوں پر حملوں کی ذمہ دار ہے:عرب اتحاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اتوار کو یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد نے یمن کے بحران کے بارے میں ایک جامع بریفنگ میں۔ اس بریفنگ میں یمن میں لبنانی دہشت گرد حزب اللہ کے ملوث ہونے اور سعودی عرب کو نشانہ بنانے کے لیے ہوائی اڈے کے استعمال کے ثبوت پیش کیے گئے۔

عرب اتحاد نے حزب اللہ کے ارکان کی تصاویر دکھائیں جو حوثی ملیشیا کو ڈرون حملوں کی تربیت دے رہے تھے۔ اتحاد نے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو سعودی عرب اور یمن میں شہریوں پر ہونے والے حملوں میں براہ راست ذمہ دار قرار دیا۔

یمن میں لبنانی حزب اللہ کی مداخلت حیران کن نہیں ہے۔ گذشتہ برسوں میں حزب اللہ نے ایرانی پاسداران انقلاب کی حمایت سے حوثی ملیشیا کو تربیت دینے کے لیے متعدد ماہرین بھیجے۔ عرب اتحاد نے بریفنگ کے دوران حزب اللہ کے ماہرین کو حوثی عناصر کی تربیت کرتے اور انہیں ڈرون طیاروں کی تربیت دیتے دکھایا گیا ہے۔

عرب اتحاد کے سرکاری ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے اتوار کو پریس کانفرنس میں کہا کہ حوثیوں کے پاس یمن میں سیاسی حل کا حصہ بننے کا فیصلہ نہیں ہے۔

المالکی نے زور دے کر کہا کہ حزب اللہ کی دہشت گرد تنظیم نے خطے اور دنیا میں تباہی پھیلا رکھی ہے اور یہ سعودی عرب اور یمن میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی ذمہ دار ہے۔

المالکی نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی حکومت خطے میں اسلحے کی سرپرستی کرتی ہے اور تباہی و بربادی کر رہی ہے۔ حوثی ملیشیا نے ایران سے فرقہ وارانہ نظریہ اپنایا ہے۔

المالکی نے عراق، شام اور لبنان میں فرقہ وارانہ سوچ کو ہوا دینے میں تہران کے کردار کے بارے میں بھی بات کی۔

اتحاد کے ترجمان نے مزید کہا کہ لبنان کی طرح یمن میں جنگ نظریاتی، سماجی اور فرقہ وارانہ نوعیت کی ہے۔

اپنی پریس کانفرنس میں المکی نے اس بات پر زور دیا کہ یمن میں سیاسی حل ہی بہترین حل ہے۔ حوثی ملیشیا نے بحران کو سیاسی طور پر حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی تمام کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔

ترجمان نے حوثی ملیشیا پر تعلق میں کمی کے معاہدے سے فائدہ اٹھانے اور اپنی افواج کو کئی محاذوں پر منتقل کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اتحاد چوبیس گھنٹے حوثی ملیشیا کی نقل و حرکت پر نظر رکھتا ہے۔

المالکی نے کہا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے مآرب کو کنٹرول کرنے کی کوشش سے 30 لاکھ یمنیوں کو خطرہ لاحق ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کے لیے ایرانی سفیر حسن ایرلو یمن میں فوجی کارروائیوں کی قیادت کر رہے تھے۔

سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں اور حزب اللہ کے ماہرین کی شمولیت کے بارے میں المالکی نے تبصرہ کرتے ہوئے ۔ہم معاف کرتے ہیں، در گذر کرتے ہیں۔

المالکی نے حوثیوں کو دھمکی دی کہ ہمیں حوثی رہ نماؤں کے ٹھکانے کا پتہ ہے اور انہیں آخری بار خبردار کیا ہے۔ سال کے آغاز سے اب تک 30,000 سے زیادہ حوثی مارے جا چکے ہیں۔

حوثیوں سے نیویگیشن کو خطرہ

نیوی گیشن کو محفوظ بنانے کے بارے میں المالکی نے مزید کہا کہ اتحاد کی کوششوں نے بحیرہ احمر میں نیویگیشن کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا نے صنعا کے ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں کے لانچنگ پوائنٹ کے طور پراستعمال کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا نے100 بمبار کشتیاں چلائی تھیں اور انہیں اتحاد نے تباہ کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا نے 247 سے زیادہ سمندری بارودی سرنگوں سے میری ٹائم نیویگیشن کو خطرے سے دوچار کیا ہے۔

المالکی نے ایسی تصاویر دکھائیں جو ثابت کرتی ہیں کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے صنعا کے ہوائی اڈے کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی حوثیوں کو صنعا کے ہوائی اڈے سے بیلسٹک میزائل داغنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔

بریگیڈیئر جنرل المالکی نے کہا کہ صنعاء کے ہوائی اڈے پر بمباری سے ڈرون کے لیے ایک گودام کو نشانہ بنایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں