جنگی مقاصد کے لئے استعمال؛ یو این کا حوثیوں کے زیر قبضہ بندرگاہ تک رسائی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے لئے اقوام متحدہ کےمشن نے ایران نواز حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ حدیدہ بندرگاہ کو جنگی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بندرگاہ کے معائنے کے لئے رسائی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مشن برائے معاہدہ حدیدہ نے بتایا کہ سات سال سے جنگ کے شکار یمن کے لئے یہ بندرگاہ نہایت اہم ہے۔

یمنی فوج کےہمراہ باغیوں کے خلاف سرگرم عرب اتحاد نے حوثی باغیوں پر الزام لگایا تھا کہ یمن کی بندرگاہوں کو جنگی مقاصد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے اور اگر ایسا روکا نہ گیا تو ان بندرگاہوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے مشن کی جانب سے ایک بیان میں بتایا گیا کہ "یو این مشن دونوں فریقین کو یاددہانی کرواتا ہے کہ حدیدہ بندرگاہ لاکھوں یمنی باشندوں کے لئے نہایت اہم ہے۔"

عرب اتحاد نے گزشتہ ہفتے حوثیوں کی جانب سے طبی سامان لے جانے والے اماراتی جہاز پر قبضے کے بعد بندرگاہوں پر حوثی تسلط کے خلاف جارحانہ موقف اختیار کیا ہے۔

یو این مشن نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ "مشن نے اپنے مینڈیٹ کے تحت بندرگاہ کے معائنے کے لئے رسائی کی درخواست دی ہے۔"

بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ ان کی فورسز نے حوثیوں کے ساتھ سخت لڑائی کے بعد شبوہ صوبے کو آزاد کروا لیا ہے۔

شبوہ یمن کا رقبے کے لحاظ سے تیسرا بڑا صوبہ ہے اور اس کو ملک کے وسط میں موجود ہونے کے سبب تزویراتی اہمیت حاصل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں