یمنیوں کے لیے مختص امداد کی لوٹ مار میں ملوث حوثی رہ نماؤں کے نام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن میں انسانی حقوق کی تنظیم "میون" نے حوثی ملیشیا کی قیادت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے عالمی خوراک پروگرام کی جانب سے پیش کیا گیا امدادی سامان بلیک مارکیٹ میں فروخت کر دیا۔ علاوہ ازیں حوثی قیادت صنعاء ، ذمار ، اِب اور تعز کے صوبوں میں مالی امداد کی چوری میں ملوث ہیں۔ اسی طرح غذائی اور مالی امداد کو جنگ کا پیٹ بھرنے اور مقامی لوگوں کو بلیک میل کرنے کے واسطے استعمال کیا گیا کہ وہ اپنے بیٹوں کو لڑائی کے محاذوں پر بھیجیں۔

شہریوں کی گواہیوں کے ذریعے انکشاف ہوا کہ حوثیوں نے امدادی سامان کو غیر مستحق عناصر میں تقسیم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ان عناصر میں حوثی ملیشیا سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں ، قیدیوں ، زخمیوں ، ہلاک شدگان اور محاذوں پر متعلقہ کمیٹیوں کے ارکان کے اہل خانہ شامل ہیں۔

مذکورہ یمنی تنظیم نے حوثیوں کی انسانی امور کی رابطہ کاری کونسل کے سربراہ احمد حامد اور کونسل کے سکریٹری جنرل عبدالمحسن الطاؤوس کے امدادی سامان کی فروخت اور ملیشیا کی فنڈنگ میں ملوث ہونے کی تصدیق کی ہے۔ تنظیم نے عالمی پروگرام برائے خوراک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمے داری پوری کرتے ہوئے اس کارستانی کی بھرپور اور شفاف تحقیقات کرائے۔ علاوہ ازیں امدادی سامان مستحقین تک پہنچنے کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کرے۔

یمنی حکومت نے دو روز قبل ایک بار پھر عالمی برادری سے اپنا یہ مطالبہ دہرایا تھا کہ وہ حوثی ملیشیا پر دباؤ ڈالے تا کہ ایران نواز دہشت گرد ملیشیا امدادی سامان کی لوٹ مار بند کر دے۔

یمن کے وزیر برائے سماجی امور اور محنت ڈاکٹر محمد الزعوری نے باور کرایا کہ حوثی ملیشیا نے اقوام متحدہ کی تنظیموں اور بین الاقوامی اور مقامی تنظیموں کے کام میں رکاوٹیں ڈالنے اور امدادی سامان کی لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق الزعوری نے واضح کیا کہ حوثی ملیشیا نے گذشتہ برس کے دوران میں حجہ صوبے کے ضلع اسلم میں عالمی پروگرام برائے خوراک کے گوداموں پر دھاوا بول کر تقریبا 120 ٹن آٹا لوٹ لیا۔ عبس کے علاقے میں بنو حسن پناہ گزین کیمپ کے متاثرین کے لیے مختص امدادی سامان اپنے قبضے میں لے لیا۔ علاوہ ازیں 16 ہزار فوڈ باسکٹوں کو اپنے ارکان میں تقسیم کر دیا۔

یمنی وزیر نے تصدیق کی ہے کہ حوثی ملیشیا نے الجوف صوبے میں 90 ہزار خاندانوں کے لیے مختص امداد کی فہرستوں میں ہیرا پھیری کی۔ ملیشیا نے اپنی تیار کردہ فہرستیں بنا کر ان پر عمل درامد کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں