متحدہ عرب امارات نے امریکا کی بائیڈن انتظامیہ سے ایران کی حمایت یافتہ یمن کی حوثی ملیشیا کو دوبارہ دہشت گرد تنظیم قراردینے کا مطالبہ کیا ہے۔
واشنگٹن میں متعیّن متحدہ عرب امارات کے سفیریوسف العتیبہ نے وائٹ ہاؤس اورامریکی قانون سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن کی حوثی ملیشیا کو دوبارہ دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے کی حمایت کریں۔
العتیبہ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ واشنگٹن میں یواے ای کے نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹرعلی الشمسی وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے عہدے داروں سے اس ضمن میں ملاقاتیں کرنے والے ہیں اور وہ بھی اس بات چیت میں ان کے ساتھ شریک ہوں گے۔
In comments earlier today, Amb Al Otaiba described the Houthi terrorist attacks against civilian sites in the UAE that killed 3 innocent civilians. He called on the Administration and Congress to support re-designating the Houthi terrorist organization as an FTO. (1/3)
— UAE Embassy US (@UAEEmbassyUS) January 19, 2022
اماراتی سفیر نے امریکی وزیردفاع لائیڈ آسٹن کی بدھ کے روز ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ٹیلی فون پربات چیت کی بھی اطلاع دی ہے۔انھوں نے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی پریمن کی حوثی ملیشیا کے حالیہ ڈرون حملوں سے پیدا ہونے والی صورت حال پرتبادلہ خیال کیا ہے۔
یواے ای کے سرکاری خبررساں ادارے وام کی رپورٹ کے مطابق دونوں اعلیٰ عہدے داروں نے حوثی ملیشیا کے ابوظبی پردہشت گردانہ حملے کے بعد میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف فضائی دفاعی نظام کومضبوط بنانے کی ضرورت سے اتفاق کیا ہے۔
ابوظبی میں پیر کے روز ڈرون حملوں کے نتیجے میں دومقامات پر آگ بھڑک اٹھی تھی اورآتش زدگی کے بعد پیٹرولیم کے تین ٹینکروں میں دھماکے ہوئے تھے۔اس واقعے میں ایک پاکستانی سمیت تین افراد ہلاک اورچھے زخمی ہوگئے تھے۔
حوثی ملیشیا نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہاکہ اس نے یواے ای میں ’’گہری کارروائی‘‘ کی ہے۔اس حملے کے بعد اسرائیل نے بھی متحدہ عرب امارات کو’’سکیورٹی اور انٹیلی جنس‘‘کے شعبے میں معاونت کی پیش کش کی ہے۔