قبرص کے وزیر دفاع خرالمبوس بتریدیس نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کی۔
العربیہ/الحدث چینلوں کو منگل کے روز دیے گئے انٹرویو میں کہا قبرصی وزیر دفاع نے کہا کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ ایک سے زیادہ شعبوں میں تعاون کرتے ہیں اور ہم اس تعاون کو بڑھانے کے منتظر ہیں۔
انہوں نےمزید کہا کہ ان کے ملک نے مملکت کے ساتھ کئی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں اور مزید دستخط کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
مشترکہ مشقیں
انہوں نے عندیہ دیا کہ وہ اگلے ماہ کے اوائل میں ریاض کا دورہ کرنے والی دفاعی نمائش میں شرکت کریں گے، جو کہ چھ سے نو مارچ تک منعقد کی جائے گی۔ اس تقریب میں ان کے ملک کی پہلی شرکت ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس دورے کا مقصد سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اور فوجی تعاون کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مملکت کے ساتھ ہمارے تعاون میں مشترکہ فوجی مشقیں شامل ہوں گی۔
حوثیوں کے حملوں کی مذمت
دوسری جانب انہوں نے مملکت کے بعض جنوبی علاقوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے شہریوں کو نشانہ بنانے ، خطے میں حوثی باغیوں کے حالیہ حملوں اور یمن میں قیام امن کی مساعی کو سبوتاژ کرنے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر حوثیوں کے حملے ناقابل قبول ہیں۔
جہاں تک ترکی کے ساتھ اپنے ملک کے تعلقات کا تعلق ہے ان کا خیال تھا کہ انقرہ اب بھی مشرقی بحیرہ روم میں عدم استحکام پیدا کرنے والا عنصر ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترکی مشرقی بحیرہ روم میں کشیدگی کو مستقل طور پر بھڑکانا چاہتا ہے۔
یوکرین کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ان کا ملک یوکرینی عوام کی حمایت کرتا ہے اور بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل تلاش کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے گذشتہ ہفتے قبرص کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے قبرصی حکام کے ساتھ مختلف موضوعات پر تفصیل سے بات کی تھی۔