روسی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران روسی صدر ولادی میر پوتین نے یوکرین میں روسی فوج کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے یوکرین کی فوج سے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے اور اقتدار پر قبضہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
روسی صدر نے کہا کہ یوکرین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ مغربی مشیروں خاص طورپر امریکا کے ذریعے ہو رہا ہے۔
قبل ازیں جمعے کو صدر پوتین نے کہا تھا کہ "ہم یوکرین کے ساتھ اعلیٰ سطحی بات چیت کریں گے۔انہوں نے اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ ایک فون کال پر بات کرتے ہوئے یوکرین کے ساتھ مشروط بات چیت کا عندیہ دیا۔
#بوتين: التشكيلات العنصرية في #أوكرانيا هي من تواجه الجيش الروسي
— العربية (@AlArabiya) February 25, 2022
#العربية pic.twitter.com/2UiTehyi3u
اس کے جواب میں چینی صدر نے یوکرین کے بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔
فون پر بات کے دوران شی جن پنگ نے اپنے روسی ہم منصب سے ایک موثر اور پائیدار یورپی سکیورٹی میکانزم بنانے پر زور دیا۔ شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین روس اور یوکرین کےذریعے مذاکرات کا حامی ہے۔
یوکرین کیس کی تاریخ
روسی صدرنے اپنے چینی ہم منصب کو یوکرین کے مسئلے کی تاریخ اور مشرقی یوکرین میں روسی فوج کی طرف سے کیے گئے خصوصی فوجی آپریشن سے آگاہ کیا۔
’آر آئی اے‘ خبر رساں ایجنسی نے کریملن کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس یوکرین کے ساتھ بات چیت کے لیے منسک میں وفود بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وفد میں دفاع اور وزارت خارجہ کے حکام بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
اس تناظر میں یوکرین کے صدارتی مشیر میخائیلو پوڈولیاک نے جمعہ کو کہا کہ یوکرین امن چاہتا ہے اور روس کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔
اگر بات چیت ممکن ہے، تو اس کا انعقاد ہونا چاہیے۔ اگر ماسکو بات کرنا چاہتا ہے اور غیر جانب دار رہنے کا مشورہ دیتا ہے تو ہم اس سے نہیں ڈرتے۔
پوڈولیاک نے رائٹرز کو بھیجے گئے ایک ٹیکسٹ پیغام میں کہا کہ مذاکرات کے لیے ہماری تیاری امن کے لیے ہماری انتھک کوششوں کا حصہ ہے۔
پوڈولیاک کی تجویز پر فوری ردعمل سامنے آیا۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ "یوکرین کے صدر جھوٹ بول رہے ہیں جب وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے ملک کی غیر جانبدارانہ صورتحال پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
لاوروف نے زور دے کر کہا کہ روس یوکرائنی حکام کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ جیسے ہی یوکرین کی فوج لڑائی بند کر دے گی ہم بات چیت کریں گے۔