روسی بحری جہازوں کو بحیرہ اسود سے گذرنے سےنہیں روکا:ترکی
انقرہ نے یوکرینی صدر کا روسی جہازوں کوروکنے سے متعلق دعویٰ مسترد کردیا
ترکی نے یوکرین کے ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں یوکرینی صدر ولادی میر زیلنسکی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ترکی نے بحیرہ اسود سے گذرنے والے روسی بحری جہازوں کو آبنائے باسفورس درد نیل بندرگاہوں کو استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔
انقرہ کے ساتھ ساتھ ماسکو نے بھی اس طرح کی پیش رفت کی صحت سے انکار کیا ہے۔
حال ہی میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اپنے یوکرینی ہم منصب سے ٹیلیفون پر بات چیت کی تھی جس میں انہوں نے روسی یلغار کومسترد کردیا تھا۔
یوکرینی صدر ولادی میر زیلنسکی نے دعویٰ کیا تھا کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کیف پر روسی حملے کے جواب میں روسی بحری جہازوں کو آبنائے باسفورس اور درد نیل سے گذرنے سے روک دیا ہے۔
I thank my friend Mr. President of 🇹🇷 @RTErdogan and the people of 🇹🇷 for their strong support. The ban on the passage of 🇷🇺 warships to the Black Sea and significant military and humanitarian support for 🇺🇦 are extremely important today. The people of 🇺🇦 will never forget that!
— Володимир Зеленський (@ZelenskyyUa) February 26, 2022
دوسری جانب یوکرائنی صدر نے ترکی کا شکریہ ادا کیا جس پر انہوں نے انقرہ کی جانب سے روسی بحری جہازوں کے لیے اپنے آبناؤں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
زیلنسکی نے ٹویٹ کیا کہ میں اپنے دوست صدر ایردوآن اور ترکی کے عوام کی بھرپور حمایت پران کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔انہوں نے روسی جنگی جہازوں کے گزرنے پر پابندی کے ساتھ کیف کی فوجی مدد اور انسانی امداد فراہم کی ہے۔ یہ ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ یوکرین کے عوام اس تعاون کو نہیں بھولیں گے۔
زیلنسکی کی ٹویٹ سے اس معاملے میں ابہام پیدا کردیا یا وہ جان بوجھ کر ایسا کررہے تھے۔ اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یوکرین کے صدر آبنائےباسفورس اور آبنائےدردا نیل بند کرنے پر ترکی کا شکریہ ادا کرتے ہیں یا اس کا مطالبہ کرتے ہیں؟۔ ترکی نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ ایسا کچھ نہیں کر رہا ہے۔
I thank my friend Mr. President of 🇹🇷 @RTErdogan and the people of 🇹🇷 for their strong support. The ban on the passage of 🇷🇺 warships to the Black Sea and significant military and humanitarian support for 🇺🇦 are extremely important today. The people of 🇺🇦 will never forget that!
— Володимир Зеленський (@ZelenskyyUa) February 26, 2022
انقرہ کی جانب سے زیلنسکی کے پیدا کردہ بحران سے نکلنے کی کوشش میں روسی جہازوں کو گذرنے سے روکنے کی تردید کی۔ یہ دونوں بندرگاہیں سنہ 1936ء کے مانٹرو کنونشن کے تحت مکمل طور پر انقرہ اس کے کنٹرول میں ہیں۔ یہ معاہدہ سوئٹزرلینڈ میں 1936 میں طے پایا تھا۔
ماسکو نے جاری تنازع میں مداخلت کی اور روسی "انٹرفیکس" ایجنسی کے ذریعے اس بات کی تردید کی کہ اسے ترکی کی طرف سے کوئی سرکاری مکتوب موصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ترکی کے آبنائےباسفورس اور دردانیل اس کے جنگی جہازوں کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔