برطانوی وزیر کی اپنے شہریوں کو یوکرین میں روس کے خلاف لڑنے کی ترغیب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن پر ماسکو اور مغرب کے درمیان کشیدگی کے جلو میں برطانوی وزیر خارجہ لز ٹرس کا حیران کن اور عجیب بیان سامنے آیا ہے۔

ٹرس نے اتوار کو بی بی سی کو دیے گئے بیانات میں کہا کہ جو برطانوی لڑائی میں حصہ لینے کے لیے یوکرین جانا چاہتے ہیں میں ان کی مدد کروں گی۔

پورے یورپ کےدفاع کی خاطر

انہوں نے مزید کہا کہ وہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے بیرون ملک سے بین الاقوامی مزاحمتی قوت کی تشکیل کے مطالبے کی حمایت کرتی ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یوکرین کے لوگ نہ صرف یوکرین بلکہ پورے یورپ کے لیے آزادی اور جمہوریت کے لیے لڑ رہے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس میں وہ برطانوی بھی شامل ہوں گے جو لڑائی میں شامل ہو کر مدد کرنا چاہتے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ "ضرور، اگر وہ یہی چاہتے ہیں۔"

دوسری جانب برطانوی وزیر دفاع بین والیس نے پیر کے روز برطانوی "اسکائی نیوز" کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ لڑنے کے لیے یوکرین نہ جائیں جو لز ٹرس کے اعلان کے واضح طور پر منافی ہے۔

بین الاقوامی کور

یہ بیانات یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے اتوار کے روز اس اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں ان کا کہنا تھا کہ یوکرین بیرون ملک سے رضاکاروں کی ایک غیر ملکی "بین الاقوامی" کور قائم کرے گا۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ یہ ہمارے ملک کے لیے آپ کی حمایت کا اہم ثبوت ہوگا۔

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بھی گذشتہ مہینوں کے دوران غیر معمولی کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس میں اضافہ اس وقت ہوا جب روسی صدر ولادی میر پوتین نے مشرقی یوکرین کے دو علیحدگی پسند علاقوں کو آزاد ریاستیں تسلیم کر لیا۔اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی شروع ہوگئی اور روس نے بڑے پیمانے پر یوکرین پر حملے شروع کردیے۔

قابل ذکر ہے کہ یوکرین کی سرزمین پر موجودہ 24 فروری کی صبح شروع ہونے والا روسی فوجی آپریشن جمعے کے روز کچھ مدت کے لیے مذاکرات کی امید میں معطل کر دیا گیا تھا، تاہم بعد میں یہ واپس آ گیا اور تمام سمتوں میں دوبارہ شروع ہو گیا۔ .

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں