’’امریکا یواے ای کوایف 35جیٹ اور مسلح ڈرونزکی فروخت کے لیے پُرعزم ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا کی ایک سینیرعہدہ دار نے کہا ہے کہ ان کا ملک متحدہ عرب امارات کوایف 35 لڑاکا طیارے اور مسلح ڈرون فروخت کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

معاون وزیرخارجہ (اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ) برائے سیاسی، فوجی امور جیسیکا لیوس نے منگل کے روز ایک سرکاری بیان میں کہا:’’وہ (اماراتی) جانتے ہیں کہ ہم پرعزم ہیں اور ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ انھیں وہ تمام معلومات دستیاب ہوں جن کی بنیادپرانھیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے‘‘۔

لیوس نے کہا:’’ہم ان سے باقاعدگی سے بات کررہے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ ہم پرعزم ہیں‘‘۔وہ ان اطلاعات پر تبصرہ کررہی تھیں کہ یواے ای اور امریکا کے درمیان اسلحہ کی خریداری سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں ہورہا ہے اور یو اے ای اس ضمن میں امریکا کو کوئی نوٹس جاری کرنے والا ہے۔

وہ کانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے روبرو گفتگو کر رہی تھیں۔ان کے ساتھ معاون وزیردفاع برائے حکمت عملی، منصوبہ بندی اور صلاحیت مارا کارلین بھی اس اجلاس میں شریک تھیں۔

امریکا کی سابق ٹرمپ انتظامیہ نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے امن معاہدے کے حصے کے طوراسلحہ کے اس سودے سے اتفاق کیا تھا لیکن کانگریس میں ترقی پسند ڈیموکریٹس کی نے اس کی مخالفت کی ہے۔

اس پربظاہرمایوس متحدہ عرب امارات نے دسمبر میں 23 ارب ڈالرمالیت کے اس معاہدے پر امریکا سے مذاکرات معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

حوثیوں کی دھمکیاں

لیوس اورکارلین نے ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کی جانب سے متحدہ عرب امارات کودرپیش خطرات کا حوالہ دیا اور خلیجی اتحادیوں کے دفاع میں امریکی امداد جاری رکھنے کا عزم ظاہرکیا۔

انھوں نے کہا کہ یواے ای کو یمن سے فی الواقع حوثیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ ہم نے ان کے ساتھ شراکت داری کا بھی عہد کیا ہے کیونکہ وہ اس مسئلہ اور اس چیلنج سے نبردآزما ہیں۔

کارلین نے کہا کہ ضروری امر یہ ہے کہ’’اس بارے میں کھل کربات چیت کی جائے کہ ہم کیسے اور کن طریقوں سے سوچتے ہیں اور وہ کیونکرزیادہ مؤثرہوسکتے ہیں اور وہ کیا کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘‘۔

قبل ازیں امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدہ دار نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ 23 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کی مجوزہ فروخت کے معاہدے سے متعلق تصفیہ طلب امور کے حل کے لیے کام کیاجاسکتا ہے۔

اس عہدہ دارکا کہنا تھا کہ’’ہم نے حال ہی میں دبئی ایئرشو میں اس امرکی تصدیق کی ہے کہ بائیڈن، ہیرس انتظامیہ یو اے ای کو ایف 35 طیاروں، ایم کیو 9 بی اور دیگراسلحہ کی مجوزہ فروخت کے لیے پُرعزم ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں کہ ہمیں اسلحہ کی ترسیل سے پہلے، دوران اور بعد میں امارات کی ذمے داریوں اوراقدامات کے بارے میں واضح اورباہمی تفہیم حاصل ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں