باسفورس اور دانیال کی آبناؤں کی بندش میں ترکی کے کیا مقاصد ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

انقرہ حکومت کی جانب سے دو روز قبل اپنے زیر انتظام دو آبناؤں کی بندش کے فیصلے کے بعد ترکی اور دنیا بھر میں "مونٹرو معاہدہ" زیر بحث آ گیا ہے۔ سال 1936ء میں طے پائے گئے اس معاہدے کے تحت آبنائے فاسفورس اور درہ دانیال کی نگرانی ترکی کے حوالے کر دی گئی تھی۔ معاہدے میں ترکی کے علاوہ سابق سوویت یونین ، برطانیہ اور چھ دیگر ممالک شامل تھے۔ مذکورہ آبنائے اور درے کی بندش سے ترکی کن مقاصد کا حصول چاہتا ہے ؟ اور یہ اقدام یوکرین میں ایک ہفتے سے جاری روسی فوجی آپریشن پر کس طرح اثر انداز ہو گا ؟

ایتھنز یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے ترک پروفیسر چنگیز اختر کے مطابق ترکی جانب سے دونوں آبناؤں کی بندش روس کے جاری حملے پر معمولی طور سے اثر انداز ہو گی۔ بالخصوص جب کہ جزیرہ نما قرم میں روس کا پوری طرح تیار بحری بیڑہ موجود ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے اختر نے کہا کہ "انقرہ نے مونٹرو سمجھوتے کی شق 19 لاگو کرتے ہوئے دونوں آبناؤں کو بند کر دیا۔ اس کے باوجود ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ نیٹو اتحاد میں ترکی وہ واحد ملک ہے جس نے روسی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند نہیں کیں۔ یہ اس جانب اشارہ ہے کہ ترکی ماسکو اور کیف سے برابر کے فاصلے پر رہنے کی کوشش کر رہا ہے"۔

روسی سیاسی تجزیہ کار اکبل درو نے بھی اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ ترکی کی جانب سے دونوں آبناؤں کی بندش یوکرین کی اراضی پر 24 فروری سے جاری روسی فوجی آپریشن کی راہ کو عملی طور پر متاثر نہیں کرے گا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے درہ نے کہا کہ انقرہ نے یوکرین میں فوجی آپریشن کے تناظر میں باسفورس اور دانیال کی آبناؤں کی بندش کا سہارا لیا۔ یہ اقدام بین الاقوامی معاہدوں کے لیے ترکی کی پاسداری کے اظہار کی خاطر کیا گیا۔ البتہ اس اقدام سے ترکی کا تیسرا اور مرکزی ہدف یہ ہے کہ وہ ماسکو اور کیف کے درمیان جاری تنازع کے تمام فریقوں کو یاد دہانی کرانا چاہتا ہے کہ آئندہ عرصے میں فوجی کارروائیوں کی راہ میں پیش رفت کی صورت میں انقرہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مزید یہ کہ ترکی اس جنگ کا طویل ہونا نہیں چاہتا ہے۔ اس لیے کہ جنگ کے طویل ہونے کی صورت میں انقرہ کو روس یا یوکرین میں سے کسی ایک جانب کھڑا ہونا ہو گا۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے پیر کے روز اعلان کیا کہ ان کا ملک یوکرین کی پوری اراضی پر اس کی خود مختاری کی حمایت کرتا ہے۔ ایردوآن کا کہنا تھا کہ "ہم اپنے قومی مفادات سے دست بردار نہیں ہو سکتے اور ساتھ ہی علاقائی اور عالمی توازن کا خیال بھی رکھیں گے"۔

انقرہ "مونٹرو" معاہدے کے تحت بحیرہ اسود کے ممالک کو آبنائے باسفورس اور درہ دانیال کے راستے ان کی آبدوزوں کو بھیجنے کی اجازت دیتا ہے بشرط یہ کہ اس کی پیشگی اطلاع ہو"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں